بصیرت پیدا ہو اور ایسا ایمان ہو جو لذیذ ہو۔ اﷲ تعالیٰ کے تصرفات اور اس کی قدرتوں اور صفات کی تجلی کو انسان مشاہدہ کرے اور اس کا ذریعہ بھی اس کے مکالمات و مخاطبات اور خوارق عادات ہیں۔ لیکن جب یہ دروازہ ہی بند ہو گیا تو پھر اس بعثت سے فائدہ کیا ہوا؟
میں بڑے افسوس سے کہتا ہوں کہ ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی ہرگز ہرگز قدر نہیں کی اور آپﷺ کی شانِ عالی کو بالکل نہیں سمجھا ورنہ اس قسم کے بیہودہ خیالات یہ نہ تراشتے اس آیت کے اگر یہ معنی جو یہ پیش کرتے ہیں تسلیم کر لیے جاویں تو پھر گویا آپ کو نعوذ باﷲ ابتر ماننا ہوگا۔ کیونکہ جسمانی اولاد کی نفی تو قرآن شریف کرتا ہے اور روحانی کی یہ نھی کرتے ہیں تو پھر باقی کیا رہا۔
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ
اصل بات یہ ہے کہ اس آیت سے اﷲ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کا عظیم الشان کمال اور آپ کی قوتِ قدسیہ کا زبردست اثر بیان کرتا ہے کہ آپﷺ کی روحانی اولاد اور روحانی تاثیرات کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ آئندہ اگر کوئی فیض اور برکت کسی کو مل سکتی ہے تو اسی وقت اور اسی حالت میں مل سکتی ہے جب وہ آنحضرت ﷺ کی کامل اتباع میں کھویا جواے اور فنا فی الرسول کا درجہ حاصل کرلے۔ بدوں اسکے نہیں اور اگر اسکے سوا کوئی شخص ادعائے نبوت کرے تو وہ کذاب ہوگا۔اس لیے نبوت مستقلہ کا دروازہ بند ہو گیا اور کوئی ایسا نبی جو بجز آنحضرت ﷺکی اتباع اور ورزش شریعت اور فنافی الرسول ہونے کے مستقل نبی صاحب و شریعت نہیں ہو سکتا۔ ہاں فنا فی الرسول اور آپ کے امتی اور کامل متبعین کے لیے یہ دروازہ بند نہیں کیا گیا۔ اسی لیے براہین میں یہ الہام درج ہے۔
کل برکۃ من محمد صلی اﷲ علیہ وسلم فتبارک من علم و تعلم
یعنی یہ مخاطبات اور مکالمات کا شرف جو مجھے دیا گیا ہے یہ محض آنحضرت ﷺ کی اتباع کے طفیل ہے اور اسی لیے یہ آپؐ ہی سے ظہور میں آرہے ہیں۔ جس قدر تاثیرات اور برکات دانوارہیں وہ آپؐ ہی کے ہیں۔
اب حضرت عیسیٰ کے لیے تم خود فتویٰ دو کہ اس کے متعلق تم کیا سمجھتے ہو اور یقین کرتے ہو۔ کیا یہ مانتے ہو کہ اس کو جو کچھ دیا جائے گا وہ آنحضرت ﷺ کا ایک اُمتی ہونے اور آپ کی کامل اتباع کی وجہ سے نصیب ہوگا یا پہلے سے انہیں دیا گیا ہے؟
یہ مانتے ہیں کہ وہ توریت اور حضرت موسیٰ ؑکا متبع تھا۔ پھر یہ تو توریت کا فخر ہوا نہ کہ قرآن مجید کا۔ پھر کیسی بیہودگی ہے کہ ایسا عقیدہ رکھا جاوے جو آنحضرت ﷺ اور قرآن مجید