بھی اتباع ضرورری سمجھے۔ حضرت عیسیٰ کا آنا نہ آنا تو امر ہی الگ ہے۔ اس سوال کو پیچھے چھوڑو ۔پہلے یہ تو فیصلہ کرو کہ کیا اس امت پر بھی وہ برکات اور فیوض ہوں گے یا نہیں؟ جب یہ فیصلہ ہولے تو پھر عیسیٰ کی آمد کا سوال جھٹ حل ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ جن مہلکات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ بہت خطرناک مرض ہے اس سے بڑھ کر اور کیا مصیبت ہو گی کہ اس امت کی نسبت باوجود خیر الامم ہونے کے یہ یقین کر لیا گیا کہ وہ اﷲتعالیٰ کے خاص فضل شرفِ مکالمہ سے محروم ہے۔ اور خواہ ساری عمر کوئی مجاہدہ کرتا رہے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا (نعوذ باﷲ) جیسے کہدیا جاوے کہ خواہ ہزار ہاتھ تک کھودتے چلو مگر پانی نہیں ملے گا۔ اگر یہ سچ ہے جیسا کہ ہمارے مخالف کہتے ہیں تو مجاہدہ اور دعا کی کیا حاجت ہے؟ کیونکہ انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ جس کو ممکن الحصول سمجھتا ہے۔ اسے تلاش کرتا ہے اور اس کے لیے سعی کرتا ہے اور اگر اسے یہ خیال اور یقین نہ ہو تو وہ مجاہدہ اور سعی کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔ جیسے ہمایا عنقا کی کوئی تلاش نہیں رتا۔ اس لیے کہ سب جانتے ہیں کہ یہ چیزیں ناممکن الحصول ہیں۔ پس اسی طرح جب یہ یقین کر لیا کہ اﷲ تعالیٰ سے ملکالمہ کا شرف ملنے کا ہی نہیں اور خوارق اب دیئے ہی نہیں جا سکتے۔ تو پھر مجاہدہ اور دعا جو اس کے لیے ضروری ہیں۔ محض بیکار ہوں گے اور اس کے لیے کوئی جرات نہ کرے گا اور اس اُمت کے لیے نعوذ باﷲ من کان فی ھذہ اعمی فھوفی الاخرۃ اعمی (بنی اسرائیل : ۷۳) صادق آئے گا اور اس سے خاتمہ کا بھی پتہ لگ جائے گا کہ وہ کیسا ہوگا کیونکہ اس میں تو کوئی شک و شبہ ہی نہیں ہو سکتا کہ یہ جہنمی زندگی ہے۔ پھر آخرت میں بھی جہنم ہی ہوگا اور اسلام ایک جھوٹا مذہب ٹھہرے گا اور نعوذ باﷲ خدا تعالیٰ نے بھی اس امت کو دھوکا دیا کہ خیرالامت بنا کر پھر کچھ بھی اسے نہ دیا۔ اس قسم کا عقیدہ رکھنا ہی کچھ کم بدقسمتی اور اسلام کی ہتک نہ تھی کہ اس پر دوسری مصیبت یہ آئی کہ اس کے لیے وجوہات اور دلائل پیدا کرنے لگے؛ چنانچہ کہتے ہیں کہ یہ دروازہ مکالمات و مخاطبات کا اس وجہ سے بند ہو گیا کہ قرآن شریف میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول اﷲ وجاتم النبین (الاحزاب : ۴۱) یعنی آنحضرت ﷺ چونکہ خاتم النبیین ہیں اس لیے آپؐ کے بعد یہ فیض اور فضل بند ہو گیا مگر ان کی عقل اور علم پر افسوس آتا ہے کہ یہ نادان اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ اگر ختم نبوت کے ساتھ ہی معرفت اور بصیرت کے دروازے بھی بند ہو گئے تو آنحضرت ﷺ (معاذاﷲ) خاتم النبیین تو کجا نبی بھی ثابت نہ ہوں گے۔ کیونکہ نبی کی آمد اور بعثت تو اس غرض کے لیے ہوتی ہے تاکہ اﷲ تعالیٰ پر ایک یقین اور