اس کو اﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے ہر ایک بلا اور اَلم سے نکال لیت اہے اور اس کے رزق کاخود کفیل ہو جاتا ہے اور ایسے طریق سے دیتا ہے کہ جو وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا۔ دنیا میں کئی قسم کے جرائم ہوتے ہیں۔بعض جرائم قانون کی حد میں آسکتے ہیں اور بعض قانون کی حد میں بھی نہیں آسکتے۔گناہ‘ خون اور نقب زنی وغیرہ جب کرتا ہے تو اُن کی سزا قانون سے پاسکتا ہے۔لیکن جھوٹ وغیرہ جو معمولی طور پر بولتا ہے یا بعض حقوق کی رعایت نہیں رکھتا وغیرہ ایسی باتیں ہوتی ہیں جن کے لیے قانون تدارک نہیں کرتا۔لیکن اﷲ تعالیٰ کے خوھ سے اور ا سکو راضی کرنے کے لیے جو سخص ہر ایک بدی سے بچتا ہے اس کو متقی کہتے ہیں یہ وہی متقی ہے جس کی آج عدالت میں بحث تھی۔ایک مولوی عدالت میں ازطرف کرم دین مستغیث گواہ تھا اور اس پر جرح تھی۔اثنائے جرح میں اس نے بحلھ بیان کیا کہ ایک شخص زنا بھی کرے‘ جھوٹ بولے یا خیانت کرے۔دغاد ے۔فریب کرے۔وغیرہ وغیرہ تو پھر بھی وہ متقی ہی رہتا ہے۔اﷲ تعالیٰ تو متقی کے لیے وعدہ کرتا ہے کہ من یتق اﷲ یجعل لہ مخرجا (الطلاق : ۳) یعنی جو اﷲ تعالیٰ کے لیے تقویٰ اختیار کرتا ہے تو ہر مشکل سے اﷲ تعالیٰ اس کو رہائی دے دیت اہے۔لوگوں نے تقویٰ کے چھوڑنے کے لیے طرح طرح کے بہانے بنا رکھے ہیں۔بعض کہتے ہین کہ جھوٹ بولے بغیر ہمارے کاروبار نہیں چل سکتے اور دوسرے لوگوں پر الزام لگاتے ہیں کہ اگر سچ کہا جائے تو وہ لوگ ہم پر اعتبار نہیں کرتے۔پھر بعض لوگ ایسے ہیں ۔جو کہتے ہیں کہ سود لینے کے بغیر ہامرا گذارہ نہیں ہو سکتا ۔ایس یلوگ کیونکر متقی کہلاسکتے ہیں۔خد اتعالیٰ تو وعدہ کرتا ہے کہ میں متقی کو ہر ایک مشکل سے نکالوں گا۔اور ایسے طور سے رزق دوں گا جو گمان اور وہم میں بھی نہ آسکے۔اﷲ تعالیٰ تو فرماتا ہے جو لوگ ہماری کتاب پر عمل کریں گے ان کو ہر طرف سے اوپر سے وار نیچے سے رزق دوں گا۔پھر فرمایا ہے کہ فی السماء رزقکم (الذریت : ۲۲۳) جس کا مطلب یہی ہے کہ رزق تمہارا تمہاری اپنی محنتوں اور کوششوں اور منصوبوں سے وابستہ نہیں۔وہ اس سے بالاتر ہے۔یہ لوگ ان وعدوں سے فائدہ نہٰں اُٹھاتے اور تقویٰ اخیتار نہیں کرتے۔جو شخص تقویٰ اختیار نہیں کرتا وہ معاصی میں غرق رہتا ہے اور بہت ساری رکاوٹیں اس کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں۔لکھ اہے کہ ایک ولی اﷲ کسی شہر میں رہتے تھے ان کی ہمسائگت میں ایک دنیادار بھی رہتا تھا۔ولی ہر روز تہجد پڑھا کرتا تھا۔ایک دفعہ دنیادار کے دل میں خیال آیا کہ یہ شخص جو ہر روز تہجد پڑھا کرتا ہے میں بھی تہجد پڑھوں ۔غرض یہی ارادہ مصمم کرکے وہ ایک رات اُٹھا اور تہجد کی نماز پڑھی۔اس کو تہجد پڑھنے سے اس قدر تکلیف ہوئی کہ کمر میں درد شروع ہو گیا۔اس ولی اﷲ کو خبر ملی کہ رات اُن کے دنیادار ہمسایہ نے تہجد کی نماز پڑھی تھی تو اس کے سبب سے اس کے کمر میں درد ہونے لگا ہے۔وہ عیادت کے لیے آیا اور اُس سے حال پوچھا ۔