اھدنا الصراط المستقیم (الفاتحہ : ۶) کی دعا کرتے ہیں اور ا س پر بھی کچھ نہیں ملتا۔ تعجب ! اﷲ تعالیا کا خدو ایسی تعلیم کرنا تو یہ معنے رکھتا ہے کہ میں تم پر انعام و اکرام کرنے کے لیے تیار ہوں جیسے کسی حاکم کے سامنے پانچ امیدوار ہوں اور وہ ان میں سے ایک کو کہے کہ تم یہاں حاضر رہو تو اس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ اس کو ضرور کام دیا جاوے گا۔ اسی طرح پر اﷲ تعالیٰ نے یہ دعا تعلیم کی اور پانچ وقت یہ پڑھی جاتی ہے مگر ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ اس کا کچھ بھی اثر اور نتیجہ نہیں ہوتا۔ کیا یہ قرآن شریف کی ہتک اور اسلام کی ہتک نہیں؟ میرے اور اس کے درمیان یہی امر دراصل متنازع فیہ ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ اسلام کے برکات اور تاثیرات جیسے پہلے تھیں ویسے ہی اب بھی ہیں۔ وہ خدا اپنے تصرفات اب بھی دکھاتا ہے اور کلام کرتا ہے۔ مگر یہ اس کے مقابلہ میں کہتے ہیں کہا ب یہ دروازہ بند ہو چکا ہے اور خدا تعالیٰ خاموش ہوگیا وہ کسی سے کلام نہیں کرتا۔ دعائوں میں تاثیر اور قبولیت نہیں۔ آنحضرت ﷺ کی پاک تاثیرات پیچھے رہ گئی ہیں اب نہیں۔ افسوس ان پر انہوں نے آنحضرت ﷺ اور قرآن شریف اور خدا تعالیٰ کی قدر نہیں کی۔ اسلام زندہ مذہب اور ہماری کتاب زندہ کتاب اور ہامرا خدا زندہ خد ااور ہمارا رسول زندہ رسول ۔ پھر اس کے برکات، انوار اور تاثیرات مردہ کیونکر ہو سکتی ہیں؟ نمیں اس مخالفت کی کچھ پروا نہیں کرسکتا۔ ان کی مخالفت کے خیال سے میں خدا تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔ کیا اُمت میں وحی و الہام کا دروازہ بند ہے لاہور میں عبد الحکیم نام ایک سخص سے میری گفتگو ہوئی۔ اس نے کاہ کہ الہام پہلی اُمتوں کا خاصہ تا۔ یہانتک کہ عورتوں کو وحی ہتی تھی مگر اس اُمت میں یہ دروازہ بند ہے کیسے شرم کی بات ہے۔ کیا یہ اُمت بنی اسرائیل کی عورتوں سے بھی گئی گذری ہو گئی اور خدا تعالیا نے اس کے لیے یہی ثاہا ہے کہ وہ خیر الامم کہلا کر بھی محروم رہے؟ اس عبد الحکیم نے تو یہانتک کہدیا تھا کہ حضرت عمر ؓ بھی محدث نہ تھے۔ وہ بیھ صرف ان کو ایک خوش کرنے کی بات تھی۔ محدث وہ بھی نہ تھے۔ مختصر یہ کہ اس قسم کی ہتک اسلام اور نبی کریم ﷺ کی یہ لوگ کرتے ہیں۔ پھر میں ان کی مخالفت کی کیا پروا کروں؟ یہ لوگ اسلام کے دوست نہیں۔ دشمن ہیں۔ اگر بقول ان کے سب بے نصیب ہیں تو پھر کیا فائدہ؟ ہزار اتباع کریں۔ معرفت نہ بڑھے گی تو کوئی احمق اور نادن ہی ہوگا جو اس پر