اور خدا تعالیٰ اس کے ہاتھ پر تائیدی نشان ظاہر کر سکے تو تم خدو بتائو کہ اس عقیدہ سے اسلام کا کیا باقی رہتا ہے؟ اگر خد اتعالیٰ پہلے بولتا تھا مگر اب نہیں بولتا تو اس کا ثبوت کیا ہے کہ وہ پہلے بولتا تھا۔ اگر خدا تعالیٰ پہلے خارق عادت تصرفات دکھاتا تھا مگر اب نہیں دکھاتا تو اس کا کای ثبوت ہے؟ قصے کہانیاں کون قوم بیان نہیں کرتی۔ افسوس ان کی تعصب نے ایسا اندھا کر دیا ہے کہ کچھ بھی ان کو سمجھائی نہیں دیتا اور میری مخالفت میں یہ اسلام کو بھی ہاتھ سے دیتے ہیں۔
مسیح ناصری کے اس امت میں آنے کے عقیدہ کے نقصانات
غرض اگر یہودی ضربت الیھم الذلۃ کے مصداق ہو چکے ہیں اور نبوت اس خاندان سے منتقل ہو ثکی ہے تو پھر یہ نا ممکن ہے کہ مسیح دوبارہ اسی خاندان سے آوے۔ اگر یہ تسلیم کیا جاوے گا تو اس کا نتیجہ یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ادنیٰ نبی مانا جاوے اور اس امت کو بھی ادنیٰ اُمت؛ حالانکہ یہ قرآن شریف کے منشاء کے صریح خلاف ہے کیونکہ قرآن شریف نے تو صاف طور پر فرمایا
کنتم خیر امۃ اخرجت لناس (ال عمران : ۱۱۱)
پھر اس امت کو خری الامت کی بجائے شر الامت کہوگے؟ اور اس طرح پر آنحضرت ﷺ کی قوتِ قدسیہ پر حملہ ہوگا۔ مگر یقینا یہ سب جھوٹ ہے۔ آنحضرت ﷺ کی قوتِ قدسیہ اعلیٰ درجہ کی تھی اور ہے اس لیے کہ وہ اب تک اپنا اثر دکھا رہی ہے اور تیرہ سو سال گذرنے کے بعد مطہر اور مقدس وجود پیدا کرتی ہے۔
اسلام کی برکات اور تاثیرات اب بھی جاری ہیں
اﷲ تعالیٰ کا انتقالِ نبوت سے یہی منشاء تھا کہ وہ اپنا فضل و کام دکھانا چاہتا تھا جو اس نے آنحضرت ﷺ پر کای تھا۔ اسی کی طرف اشارہ ہے۔
اھدنا الصراط المستقیم (الفاتحہ : ۶)
میں۔ یعنی اے اﷲ ہم پر وہ انعام و اکرام کر جو پہلے نبیوں اور صدیقوں شہیدوں اور صالحین پر تونے کئے ہیں ہم پر بھی کر۔ اگر خدا تعالیٰ یہ انعام و اکرام کر ہی نہیں سکتا تھا اور ان کا دروازہ بند ہو چکا تھا تو پھر اس دعا کی تعلیم کی کیا ضرورت تھی؟ اسرائیلیوں پر تو یہ دروازہ بند ہو چکا تھا۔ اگر یہاں بھی بند ہو گیا تو پھر کیا فائدہ ہوا؟اور کس بات میں بنی اسرائیل پر اس امت کو فخر ہوا؟ جو خود اندھا ہے وہ دوسرے اندھے پر کیا فحر کر سکتا ہے؟
اگر وحی، الہام، خوارق یہودیوں پر بند ہو چکے ہیں تو پھر یہ بتائو کہ یہ دروازہ کسی جگہ جا کر کھلا بھی یا نہیں؟ ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ نہیں ہم پر بھی یہ دروازہ بند ہے۔ یہ کیسی بدنصیبی ہے۔ پانچ وقت