یہ ماننا پڑے گا کہ عیسائی نہیں بگڑے بلکہ حق پر ہیں۔ پس غور کر کے بتائو اسلام کی حقانیت پر یہ کس قدر خطرناک حملہ ہوگا۔ کیونکہ جب ایک سچا مذہب موجود ہے اور اس میں کوئی خرابی ہی پیدا نہیں ہوئی تو پھر جو کچھ وہ کہتے ہیں مان لینا چاہیے۔ مگر نہیں خدا تعالیٰ کا کلام حق ہے کہ یہی سچ ہے کہ وہ مر گئے اور عیسئای مذہب بھی اُن کے ساتھ ہی مر گیا اور اس میں کوئی روح حق اور حقیقت کی نہین رہی۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ اس دنیا میں نہیں آئیں گے کیونکہ وہ عیسائیوں کے بگڑنے کا اقرار اپنی موت کے بعد کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے آنا تھا تو وہ جواب نہ دیتے ورنہ یہ جواب اﷲ تعالیا کے حضور جھوٹ سمجھا جاوے گا۔ اور رب العرش العظیم کے حضور حلف دروغی ہوگی کیونکہ اس صورت میں تو انہیں کہنا چاہیے تھا کہ میں گیا اور جا کر ان صلیبوں کو تورا اور ان میں پھر توحید قائم کی وغیرہ وغیرہ۔
غرض یہ میرا دعویٰ جو اﷲ تعالیٰ کے ایماء اور حکم صریح سے کیا گیا ہے۔ خد اتعالیا نے اپنے عظیم الشان مصالح اور حکمت سے ایسا ہی چاہا ہے تا کہ مسیح کی عظمت کو تورا جاوے اور ہمیشہ اﷲ تعالیٰ نے ایسا کیا ہے۔ یہودی خدا تعالیا کی برگزیدہ قوم کہلاتے تھے۔ لیکن جب انہوں نے شریعت کی بے حرمتی کی اور وہ حد سے زیادہ بگڑ گئے تو اﷲ تعالیٰ کی غیرت نے نہ چاہا کہ اُن میں نبوت کا سلسلہ رہے اور نبوت کو خاندان بنو اسمٰعیل میں منتقل کر کے ختم کر دیا جیسا کہ خود حضرت عیسیٰ ؑ نے بھی باگ اولی تمثیل میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔یہودیوں کی اس شوخی اور گستاخی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر ذلت کی مار ماری گئی۔ اب وہ ہر سلطنت کے ماتحت ذلیل ہیں بلکہ بعض سلطنتوں سے کئی دفعہ نکالے گئے ہیں۔ اب جبکہ یہود پر ذلت پڑ چکی اور نبوت ان کے خاندان سے منتقل ہو چکی۔ تو کیا یہ انتقال نبوت تنزل کے طو رپرتھا اور ناقص تھا؟ اگر ایسا تھا تو پھر یہودی ناز کر سکتے ہیں اور وہ یہ پیش کر سکتے ہیں کہ ہم پر یہ فضل ہوا۔ اور وہ انعام ہوا۔
منجملہ اس کے ایک یہ بھی کہ توریت کی خدمت اور ا سکے استحکام کے لیے برابر خلفاء و رسل آتے رہے۔ لیکن قرآن سریف کو یہ مرتبہ حاصل نہ ہوا( نعوذ باﷲ من ذالک) سوچ کر بتائو۔ کہ کیا یہ اسلام کی بے عزتی اور نقص کی سلیل ہوگی یا اس کے لیے عطمت کا ذریعہ؟
مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ میرے مخالفوں نے میری مخالفت میں یہاں تک غلو کیا ہے، کہ اسلام کی بھی سخت ہتک کر لینی انہوں نے گوارا کی اور آنحضرت ﷺکو جو خاتم الانبیاء اور تمام نبیوں سے اھضل اور اکمل تھے (ﷺ) معاذ اﷲ ناقص نبی ٹھہرایا۔ جب یہ تسلیم کر لیا اور اپنا عقیدہ بنالیا کہ اب کوئی شخص ایسا نہیں ہو سکت اجو اﷲ تعالیٰ سے شرفِ مکالمہ پا سکے