کا خون ہو جاوے۔ اور وہ تو ویا زندہ ہی مر جاویں مگر نہیں ایسا نہیں ہے۔ اﷲ تعالیٰ ہر شخص پر وہی انعام کر سکتا ہے جو اس نے اپنے برگزیدہ بندوں پر کیے۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ اس قسم کا دل اور اخلاص لے کر اس کے حضور آئو۔ مسیح کا نام دیئے جانے کی حکمت میں نے از خود کوئی دعویٰ نہیںکیا۔ میں اپنی خلوت کو پسند کرتا تھ۔ مگر اﷲ تعالیٰ کے مصالح نے ایسا ہی چاہا اور اس نے خود مجھے باہر نکالا۔ چونکہ سنت اﷲ یہی ہے کہ جب کسی شخص کو اس کی مناسب عزت سے بڑھ کر عظمت دی جاتی ہے۔ تو اﷲ تعالیٰ اس عظمت کا دشمن ہو جاتا ہے کیونکہ یہ اسکی توحید کے خلاف ہے۔ اسی طرح پر حضرت عیسیٰ ؑ کے لیے وہ عظمت تجویز کر دی گئی تھی جس کے وہ مستحق نہ تھے۔ یہانتک کہ انہیں خد ابنا دیا گیا اور خانۂ خد اخالی ہو گیا۔ عیسائیوں سے پوچھ کر دیکھ لو۔ وہ یہی کہتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح ہی خود خدا ہے۔ اب جس انسان کو اس قدر عظمت دی گئی اور اسے خد ابنایا گیا۔ (نعوذ باﷲ) اور اس طرح پر خد اکا پہلو گم کر دیا گیا تو کیا خداتعالیٰ کی غیرت مخلوق کو اس انسان پرستی سے نجات دینے کے لیے جوش میں نہ آتی؟ پس اس تقاضا کے ماوفق اس نے مجھے مسیح کرکے بھیجا تا کہ دنیا پر ظاہر ہو جاوے کہ مسیح بجز ایک عاجز انسان کے اور کچھ نہ تھا۔ خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ اس کفر کی اصلاح کرے اور اس کے لیے یہی راہ اختیا رکی کہ آنحضرت ﷺ کی اُمت کے ایک فرد کو اسی نام سے بھیج دیاتا ایک طرف آنحضرت ﷺ کی عظمت کا اظہار ہو اور دوسری طرف مسیح کی حقیقت معلوم ہو۔ یہ ایسی موٹیب ات ہے کہ معمولی عقل کا انسنا بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔ دیکھو اگر ایک بڑے آدمی کو معمولی اردلی سے مشابہت دی جاوے تو وہ چڑتا ہے یا نہیں؟ پھر کیا خد اتعالیٰ میں اتنی بھی گیرت نہیں کہ ایک عاجز انسان کو اس کی اُلوہیت کے عرش پر بٹھایا جاوے اور مخلوق تباہ ہو اور وہ انسداد نہ کرے؟ خود اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مسیح نے ہرگز ایسا دعویا نہیں کیا کہ میں خد اہوں۔اگر وہ ایسا دعویٰ کرے تو میں جہنم میں ڈال دوں۔ ایک مقما پر یہ بھی فرمایا ہے کہ مسیح سے اس کا جواب طلب ہوگ اکہ کیا تونے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو۔ تو حضرت مسیح اس مقام پر ا سے اپنی بریت ظاہر کریں گے اور آخر یہ کہیں گے۔ فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم (المائدہ : ۱۱۸) یعنی جبتک میں ان میں زندہ رہا تھا۔ میں نے ہرگز نہیں کہا۔ ہاں جب تونے مجھے وفات دے دی تو پھر تو آپ ان کا نگران تھا۔ اس سے پہلے مادمت فیھم کا لفظ صاف طو رپر ظاہر کرتا ہے کہ جبتک حضرت مسیح زندہ رہے ان کی قوم میں یہ بگاڑ پیدا نہیں ہوا۔ ساری ضلالت بعد وفات ہوئی ہے۔ اگر حضرت مسیح ابھی تک زندہ ہیں تو پھر