لیے جنہوں نے دنیا کی حیات کو عزیز سمجھا۔ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنے کے یہ معنے نہیں کہ انسان خواہ مخواہ لڑائیاں کرتا پھرے بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ خد اتعالیٰ کے احکام اور اَوَامر کو اسکی رضا کو اپنی تمام خواہشوں اور آرزوؤں پر مقدم کرے اور پھر اپنے دل میں گور کرے کہ کیا وہ دنیا کی زندگی کو پسند کرتا ہے یا آخرت کو اور خدا کی راہ میں اگر اس پر مصائب اور شدائد بھی پڑیں تو وہ ایک لذت اور خوشی کے ساتھ انہیں برداشت کرے اور اگر جان بھی دینی پڑے تو تردد نہ ہو۔
اصل غرض مقام رضا کا حصول ہے
پس یہی وہ امر ہے جو میں اپنی جماعت میں پیدا کرنا ثاہتا ہوں کہ ان میں صحابہؓ کا نمونہ قائم ہو۔ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ جب کثرت سے ایسے خطوط آتے ہیں کہ جن مین دنای اور ا س کی خواہشوں کا زکر ہوتا ہے اور لکھا جاتا ہے کہ میرے لیے ھلاں امر کے واسطے دعا کرو۔ میری فلاں آرزو پوری ہو جائے۔ بہت ہی تھوڑے لوگ ہوتے ہیں جو محض خدا کی رضا ہی کو مقدم کرتے ہیں اور اسی کی ہی خوہاس اور آرزو کرتے ہیں۔ بعض ایسے ہوتے ہیں کہ مکر سے لکھتے ہیں۔ یعنی پہلے تو ذکر کرتے ہیں کہ آپ دعا کریں کہ ہمارے دل میں زوق شوق عبادت کا پیدا ہو جاوے اور یہ ہو اور وہ ہو۔ پھر آخر میں اپنی دنیوی خواہشوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ میں ایسی بد بودار تحریروں کو شناخت کر لیتاہوں کہ ان کی اصل غرض کیا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے اور وہ نیات کو خوب دیکھتا ہے۔ اس طرح پر تو گویا خد اکو دھوکہ دینا ہے۔ اس طریق کو بالکل چھوڑ دیان چاہیے۔ تمہیں چاہیے کہ خالصۃً اﷲ کے لیے ہو جائو۔اگر تم اﷲ تعالیٰ کی رضا جوئی کو مقدم کرو گے تو یقیناً سمجھو دنیا میں بھی ذلیل اور خوار نہیں رہوگے۔اﷲ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے لیے غیرت ہوتی ہے وہ خود ان کا تکفل فرماتا ہے اور ہر قسم کی مشکلات سے انہیں نجات اور مخلصی عطا فرماتا ہے۔ میں یقیناً جانتا ہوں اور کہتاہوں کہ اگر تم میں وہ تخم بویا گیا جو صحابہؓ میں بویا گیا تھا تو اﷲ تعالیٰ ہر طرح اپنے فضل کرے گا۔ ایسے شخص پر کوئی شخص حملہ نہیں کر سکتا۔ اس امر کو خوب یاد رکھو۔ اگر خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا اور مضبوط تعلق ہو جاوے تو پھر کسی کی شمنی کی کیا پروا ہو سکتی ہے۔میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ میرے نزدیک عیسیٰ یا موسیٰ کا دعویٰ کوئی حقیقت نہیں رکھتا ۔ اصل غرض تو یہ ہے کہ میں مقام رضا حاصل کرنا چاہتا ہوں اور یہی سب کو کرنا چاہیے۔ یہ اس کا فضل اور محض فضل ہے کہ وہ اپنے انعامات سے حصہ دے اور اس کے حضور کوئی کمی اور اس کی ذات میں کوئی بخل نہیں۔ یہ کبھی خیال نہیں کرنا چاہیے۔ میرے نزدیک جو شخص ایسا گمان کرتا ہے ۔وہ کافر ہو جاتا ہے۔ اگر انبیاء و رسل کے انعامات کو حاصل نہیں کر سکت اتو پھر دنیا میں انکے آنے سے کیا فائدہ وار کای حاصل؟ خدا تعالیٰ کی راہ میں مجاہدہ کرنے والوں اور راستبازوں کی ساری اُمیدوں