اسے دیر ہوتی تو وہ روتا اور چلاتا تھا۔ وہ سمجھ چکے تھے کہ ان ابتلائوں کے نیچے خدا تعالیٰ کی رضا کا پروانہ اور خزانہ مخفی ہے۔
ہر ملا کیں قوم را حق دادہ است
زیر آن گنج کرم بنہادہ است
قرآن شریف ان کی تعریف سے بھرا ہوا ہے۔ اسے کھول کر دیکھو۔ صحابہؓ کی زندگی آنحضرت ﷺ کی صداقت کا عملی ثبوت تھا۔ صحابہؓ جس مقام پر پہنچے تھے اس کو قرآن شریف میں اس طرح پر بیان فرمایا ہے
منہم من قضی نحبہ و منہم من ینتظر (الاحزاب : ۲۴)
یعنی بعض ان میں سے شہادت پا ثکے اور انہوں نے گویا اصل مقصود حاصل کر لیا۔ اور بعض اس انتظار میں ہیں کہ چاہتے ہیں کہ شہادت نصیب ہو۔ صحابہؓ دنیا کی طرف نہیں جھکے کہ عمریں لمبی ہوں اور اس قدر مال و دولت ملے اور یوں بے فکری اور عیس کے سامان ہوں۔ میں جب صحابہع کے اس نومنہ کو دیکھتا ہوں تو آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی کامل فیضان کا بے اختیار اقرار کرنا پرتا ہے کہ کس طرح پر آپ نے انکی کا یا پلٹ دی اور اُنہیں بالکل رُوبخدا کر دیا۔اللہم صل علی محمد وعلی ال محمد و بارک وسلم۔
خلاصہ یہ کہ ہمارا فرض یہ ہونا چاہیے کہ ہم اﷲ تعالیٰ کی رضا مندی کے جو یا اور طالب رہیں اور اسی کو اپنا اصل مقصود قرار دیں۔ ہماری ساری کوسس اور تگ و دو اﷲ تعالیٰ کی رضا کے حاصل کرنے میں ہونی چاہیے۔ہواہ وہ شدائد اور مصائب ہی سے حاصل ہو۔ یہ رضائے الٰہی دنیا اور اس کی تمام لذات سے افضل اور بالا تر ہے۔
شہادت کی حقیقت
یہ بھی یاد رکھو کہ یہی شہادت نہیں کہ ایک شخص جنگ میں مارا جائے بلکہ یہ امر ثابت شدہ ہے کہ جو سخص اﷲ تعالیٰ کی راہ میں ثابت قدم رہتا ہے اور اس کے لیے ہر دُکھ درد اور مصیبت کو اتھانے کے لیے مستعد رہتا ہے اور اتھاتا ہے وہ بھی شہید ہے۔ شہید کا مقام وہ مقام ہے جہاں وہ اﷲ تعالیٰ کو گویا دیکھتا اور مشاہدہ کرتا ہے یعنی اﷲتعالیٰ کی ہستی اس کی قدرتوں اور تصرفات پر وہ اس طرح ایمان لاتا ہے جیسے کسی چیز کو انسان مشاہدہ کر لیتا ہے۔ جب اس حالت پر انسان پہنچ جاوے۔ پھر ا س کو اﷲ تعالیٰ کی راہ میں جان دینا کچھ بھی مشکل نہیں ہوتا بلکہ وہ اس میں راحت اور لذت محسوس کرتا ہے۔ شہادت کا ابتدائی درجہ خد اکی راہ میں استقلال اور ثبات قدم ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص نہ مرا اﷲ کی راہ میں اور نہ تمنا کی مرگیا وہ نفاق کے شعبہ میں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص کا مل مومن نہیں ہوتا جبتک اﷲ تعالیٰ کی راہ میں مرنا دنیا کی زندگی سے وہ مقدم نہ کرے۔ پھر یہ کیسا گراں مرحلہ ہے ان لوگوں کے