دعوت کی۔ ایک نے اس دعوت کو قبول کیا اور دوسرے نے انکار کر دیا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اﷲ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے
فی قلوبہم مرض فزادھم اﷲ مرضا (البقرۃ : ۱۱)
انبیاء و رسل اس خباثت اور شقاوت کو جو اُن کے اندر ہوتی ہے ظاہر کر دیتے ہیں۔ قرآن شریف نے انبیاء و رسل کی بعثت کی مثال مینہ سے دی ہے۔
والبلد الطیب یخرج نبا تہ باذن ربہ والذی خبث لا یجرج الا نکدا (الاعراف : ۵۹)
یہ تمثیل اسلام کی ہے۔ جب کوئی رسول آتا ہے تو انسانی فطرتوں کے سارے خواص ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ان کے ظہور کا یہ خاصہ اور علامات ہیں کہ مخلوص سعید الفطرت اور مستعد طبیعت کے لوگ اپنے اخلاص اور ارادت میں ترقی کرتے ہیں اور سریر شرارت میں بڑھ جاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ مین جب خبیث اور منکر گروہ نے شرارتیں کرنی شروع کیں اور دکھ اور ایذارسانی کے منصوبے کیے۔ اس وقت معلوم ہو اکہ کیسی کیسی خبیث روحیں ہیں۔ ایک وہ لوگ تھے کہ انہوں نے آپؐ کی راہ میں سر کٹواڈالے۔ ان کے حالات اور واقعات کو دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ ان میں کیسا اخلاص اور ارادت تھی۔ فی الحقیقت اُن کا اُسوہ اُسوۂ حسنہ ہے۔ یہانتک کہ ان میں سے اگر کسی کا ایک ضرب سے سر نہیں کٹا تو اس کو شک ہوا۔ کہ شہید نہیں ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں کیسے فدا تھے۔ لکھا ہے کہ ایک صحابی نے اپنے مخالف کو ایک تلوار ماری۔ اس کے نہ لگی مگر اپنے لگی۔ دوسرے نے کہا کہ شہید نہیں ہوا۔آنحضرت ﷺ کے پاس لے آئے اور پوچھا کہ کیا شہید نہیں ہوا؟ آپﷺ نے فرمایا۔ دو اجر ملیں گے۔ایک یہ کہ دشمن پر حملہ کیا اور دوسرا اس لیے کہ اپنے آپ کو محض خدا تعالیٰ کے لیے خطرہ میں ڈالا۔ اس قسم کا ایمان ان لوگوں کا تھا۔ پس جب تک اس قسم کا اخلاص اور اتقامت اﷲ تعالیٰ کے لیے حاصل نہ ہو کچھ نہیں بنتا۔
میں اپنی جماعت میں صحابہ کا نمونہ دیکھنا چاہتا ہوں
میں یہی نمونہ صحابہ کا اپنی جماعت میں دیکھنا ثاہتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ کو وہ مقدم کر لیں اور کوئی امر ان کی راہ میں روک نہ ہو۔ وہ اپنے مال و جان کو ہیچ سمجھیں۔ میں دیکھتا ہوںکہ بعض لوگوں کے کارڈ آتے ہیں۔کسی تجارت یا اور کام میں نقصان ہوا یا اور کسی قسم کا ابتلاء آیا تو جھٹ شبہات میں پڑگئے۔ایسی حالت میں ہر سخص سمھج سکت اہے کہا صل مطلب اور مقصد سے وہ کس قدر دور ہیں۔ غور کرو کیا فرق ہے صحابہؓ میں اور ان لوگوں میں۔ صحابہؓ یہ چاہتے تھے کہ خدا تعالیٰ کو راضی کریں خواہ اس راہ میں کیسی ہی سختیاں اور تکلیفیں اُٹھانی پڑیں۔ اگر کوئی مصائب اور مشکلات میں نہ پڑتا اور