ہوتے ہیں اور دوسری طرف مخلوق کے لیے ان کے دل میں اس قدر ہمدردی ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے لیے بھی خطرہ میں ڈال دیتے ہیں اور خود ان کی جان جانے کا اندیشہ ہوتا ہے؛ چنانچہ اﷲتعالیٰ آنحضرت ﷺ کی نسبت قرآن شریف میں فرماتا ہے لعلک با خع نفسک الا یکونو ا مومنین (الشعر : ۴۱) یہ کس قدر ہمدردی اور خیر خواہی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس میں فرمایا ہے کہ تو ان لوگوں کے مومن نہ ہونے کے تعلق اس قدر ہم و غم نہ کر۔ اس غم میں شاید تو اپنی جان ہی دے دے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمدردیٔ مخلوق میں کہاں تک بڑھ جاتے ہیں۔ اس قسم کی ہمدردی کا نمونہ کسی اور میں نہیں پایا ۔ یہاں تک کہ ماں باپ اور دوسرے اقارب میں بھی ایسی ہمدردی نہیں ہو سکتی۔ مخلوق تو انہیں کاذب اور مفتری کہتی ہے اور وہ مخلوق کے لیے مرتے ہیں۔ یقینا یاد رکھو کہ یہ ہمدردی والدین میں بھی نہیں ہوتی اس لیے کہ وہ جب دیکھتے ہیں کہ اولاد سرکش اور نافرمان ہے یا اور نقص اس میں پاتے ہیں تو آخر اسے چھور دیتے ہیں مگر انبیاء و رسل کی یہ عادت نہیں وہ مخلوق کو دیکھتے ہیں کہ اُن پر حملہ کرتی اور ستاتی ہے۔ لیکن وہ اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ لوگوں کی ہدایت کے لیے اس قدر دعا کرتے تھے جس کا نمونہ اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کیا ہے۔ اﷲ تعالیا نے آپؐ کے دل میں ایک پیاس لگا دی تھی کہ لوگ مسلمان ہوں اور خدائے واحد کے پرستار ہوں۔ انبیاء کی جذب و کشش اور اس کے اثرات جس قدر کوئی نبی عظیم الشان ہوت اہے اسی قدر یہ پیاس زیادہ ہوتی ہے اور یہ پیاس جس قدر تیز ہوتی ہے اسی قدر جذب اور کشش اس میں ہوتی ہے۔ آنحضرت ﷺ چونکہ خاتم الانبیاء اور جمیع کمالات نبوت کے مظہر تھے اسی لیے یہ پیاس آپ میں بہت زیادہ تھی اور چونکہ یہ پیاس بہت تھی اسی وجہ سے آپ میں جذب اور کشش کی قوت بھی تمام راستبازوں اور ماموروں سے بڑھ کر تھی جس کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگ اکہ آپؐ کی زندگی ہی میں کل عرب مسلمان ہو گیا۔ یہ کشش اور جذب جو مامورین کو دیا جاتا ہے وہ مستعد دلوں کو تو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور ان لوگوں کو جو اس سے حصہ رکھتے دشمنی میں ترقی کرنے کا موقعہ دیتا ہے ؎ باراں کہ در لطافت سبعش خلاف نیس در باگ لالہ روید و درسورہ بوم و خس اسی طرح پر انبیاء علیہم السلام کی خاصیت ہوتی ہے کہ مومن اور کافران کے طفیل سے اپنے کفر اور ایمان میں کمال کرتے ہیں۔ لکھا ہے کہ ابو جہل کا کفر پورا نہ ہوتا اگر آنحضرتﷺ نہ آتے۔ پہلے اس کا کفر مخفی تھا لیکن آنحضرت ﷺ کی بعثت پر اس کا اظہار ہو گیا۔ اسی طرح حضرت ابو بکر ؓ کا صدق بھی مخفی تھا جو اس وقت ظاہر ہوا۔آنحضرت ﷺ نے روحانی