آن کس کہ تُرا شناخت جہاں راچہ کُنَد
فرزند و عیال و خانماں راچہ کُنَد
دیوانہ کنی و ہر دو جہانش بخشی
دیوانۂ تو دو جہاں راچہ کُنَد
اس کے دل میں بڑا بننے سے طبعاً نفرت اور کراہت ہتوی ہے۔ مگر وہ لگو جو خد اس قسم کی کبریائی کی بیہودہ خواہشوں کے گلام اور اسیر ہوتے ہیں وہ اپنے نفس پر قیاس کر کے ان کی نسبت بھی یہی سمجھتے ہیں کہ وہ برا بننے کی خواہسوں سے ایسے دعوے کرتے ہین حالانکہ وہ اتنا نہیں ہ ان کا دعویا تو ان پر ایک آفتوں اور مصائب کا طوفان لے آتا ہے اور ان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے۔ہر طرف سے ان کی مخالفت کے لیے ہاتھ اور زبان چلتی ہے اور کوئی دقیقہ اُن کو دکھ دینے میں اُٹھ انہیں رکھا جاتا۔ پھر یہ کیسی بے انصافی اور ظلم ہے کہ ان کی نسبت یہ وہم کیا جاوے کہ وہ خواہش کبریائی سے ایسا کرتے ہیں۔ یہ بہتانِ عظیم ہے وہ تو صرف اﷲ تعالیٰ کا جلال اور اس کی عظمت کے اظہار اور اس کی کبریائی کے اعلان کو پسند کرتے ہیں اور ان کے لیے اپنی جان ایک جان کیا ہزار جان بھی دینے کو تیار ہوتے ہیں۔افسوس اہل دنیا ان کے حالات سے بے خبراور ناواقف ہتوے ہیں اس لیے اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں’ اصل یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کے مصالح پسند فرماتے ہیں کہ ان کو بہار نکالا جاوے او روہ دنیا کے سامنے نکلیں اور وہ خد اجو اہلِ دنیا سے مخفی ہوتاہے ان کے وجود میں نظر آوے۔
انبیاء کو اﷲ تعالیٰ عظمت عطا کرتا ہے
یہ بھی یاد رکھو کہ جس چیز سے انسان نفرت کرتا ہے وہی اس کو دیتا ہے اور جس کی طرف بھاگتا ہے اس سے محروم کیا جاتا ہے۔انبیاء ورسل کا گروہ ہرگز ہرگز اپنی جاہ و حشمت کو نہیں چاہتے۔ لیکن اﷲ تعالیا اپنے مصالح کی بنا پر انہیں عطا کرتا ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر گذرے ہیں اور اس لحاظ سے ان سب کو گویا ایک ہی سمجھو کیونکہ سب کے ساتھ ایک ہی معاملہ ہوا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اُن میں سے کسی ایک کو بھی ذلیل اور خوار نہیں کیا اس لیے کہ اُن کی ذلت اﷲتعالیٰ کی ذلت ہے۔ (تعالی شانہ) جو لوگ ان کے خلاف کرتے ہیں اور مخلوق کو عظمت دیتے ہیں گویا اﷲ تعالیا کی کبریائی کی ردا مخلوق کو پہناتے ہیں وہ اﷲ تعالیٰ کی نظر میں مردود ہیں۔
انبیاء میں مخلوق سے ہمدردی
یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ایک طرف انبیاء و رسل اور خدا تعالیا کے مامورین اہل دنیا سے نفور