آگیا اور کھانا رکھا گیا تو یہ کہدیتے ہیں کہ آپ کھائیے مجھے کچھ عزر ہے۔ اس کے معنے دوسرے الفاظ میں یہ ہوئے کہ مجھے روزہ ہے۔ اس طرح پر وہ گویا اپنے روزوں کو چھپاتے ہیں اور دراصل اس طرح پر ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ ظاہر کریں کہ ہم نفلی روزے رکھتے ہیں۔
گرض انہوں نے اپنے زمانہ کے فقراء کے اس قسم کے بہت سے گند لکھے ہیں۔ اور صاھ طور لکھ اہے کہ ان میں تکلفات بہت ہی زیادہ ہیں۔ ایسی حالت اس زمانہ میں بھی قریب قریب واقع ہو گئے ہے۔ جو لوگ ان پیروں اور پیرزادوں کے حالات سے واقف ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ قسم قسم کے تکلفات اور ریاکاریوں سے کام لیتے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ جو شخص اﷲ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اسی سے امید رکھتا ہے وہ اپنے آپ کو اﷲت عالیا کے لیے درست کرتا ہے اور اس طرح پر درست کرتا ہے جس طرح پر اﷲتعالیٰ چاہتا ہے اور ہدایت کرتا ہے لیکن جس شخص مخلوق سے ڈرتا اور مخلوق سے امید رکھتا ہے وہ اپین آپ کو مخلوق کے لیے درست کرتا ہے۔خدا والوں کو مخلوق کی پروا نہیں ہوتی بلکہ وہ اسے مرے ہویء کیڑے سے بھی کمتر سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ ان بلائوں میں نہیں پھنستے۔؎ٰ اور دراصل وہ ان کو کیا کرے۔ اﷲت عالیا خود اس کے ساتھ ہوت اہے اور وہی اس کی تائید اور نصرت فرماتا ہے۔ وہ اﷲ تعالیا پر بھروسہ کرتا ہے اور جانت اہے کہ وہ خد ااپنی مخلوق کو خود اس کے ساتھ کر دے گا۔ یہی سر ہے کہ انبیاء علیہم السلام خلوت کو پسند کرتے ہیں اور میں یقینا اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ وہ ہرگز ہرگز پسند نہیں کرتے کہ باہر نکلیں،لیکن اﷲتعالیٰ ان کو مجبور کرتا ہے اور پکڑ کر باہر نکالتا ہے۔
مامورین اور مرسلین کا استغناء
دیکھو موسیٰ ؑکو جب اﷲ تعالیا نے مامور کرنا چاہا اور فرعون کی طرف ہدایت اور تبلیگ کی خاطر بھیجنے کی بشارت دی تو انہوں نے عذر شروع کر دیا کہ میں نے اُن کا ایک خون کیا ہوا ہے بھائی کو بھیج دیا جاوے۔ یہ کیا بات تھی؟یہ ایک قسم کا استغناء اور اہل عالم سے الگ رہنے کی زندگی کو پسند کرنا تھا۔ یہی استغناء ہر مامور اور مرسل کو ہوتا ہے اور وہ اس تنہائی کی زندگی کو بہت پسند کرتا ہے اور یہی ان کے اخلاص کا نشان ہوتاہے اور اسی لیے اﷲتعالیٰ ان کو اپنے لیے منتخب کرتا ہے کیونکہ وہ ان کے دل پر نظر کر کے خوب دیکھ لیتاہے کہ اس میں غیر کی طرف قطعاً توجہ نہیں ہوتی اور وہ اﷲتعالیٰ کی رضا اور تعمیل امر ہی کو اپنی زندگی اور حیات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔