ہے۔بچہ اپنی ضرورتوں کو نہیں سمجھتا بلکہ ماں ہی اس کی ضرورتوں کو خوب سمجھتی اور اُن کو پورا کرنے کے خیال میں لگی رہتی ہے۔اسی طرح جب مان کی تولیت سے نکل آئے تو انسان کو بالطبع ایک متولی کی ضرورت پڑتی ہے۔طرح طرح سے اپنے متولی اور لوگوں کو بناتا ہے جو خود کمزور ہوتے ہیں اور اپنی ضروریات میں غلطاں ایسے ہوت یہیں کہ دوسرے کی خبر نہیں لے سکتے ،لیکن جو لوگ ان سب سے منقطع ہو کر اس قسم کا تقویٰ اور اصلاح اختیار کرتے ہیں ان کا وہ خود متولی ہو جاتا ہے اور ان کی ضروریات اور حاجات کا خود ہی کفیل ہو جاتا ہے۔انہیں کسی بناوٹ کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔وہ اس کی ضروریات کو ایسے طور سے سمجھتا ہے کہ یہ خود بھی اس طرح نہیں سمجھ سکتا اور اس پر اس طرح فضل کرتا ہے کہ انسان خود حیران رہتا ہے۔گرنہ ستانی بہ ستم مے رسد۔والی نوبت ہوتی ہے۔لیکن انسان بہت سے زمانے پالیتا ہے۔جب اس پر ایسا زمانہ آتا ہے کہ خد ااس کا متولی ہو جائے یعنی اس کو خد اتعالیٰ کی تولیت حاصل کرنے سے پہلے کئی متولیوں کی تولیت سے گذرنا پڑتا ہے۔جیس اکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ قل اعوذ برب الناس۔ملک الناس الہ الناس۔من شر الوسواس الخناس۔الذی یوسوس فی صدور الناس۔من الجنۃ والناس۔ (الناس : ۲ تا ۷) پہلے حاجت ماں باپ کی پڑتی ہے۔پھر جب بڑا ہوتا ہے تو بادشاہوں اور حاکموں کی حاجت پڑتی ہے پھر جب اس سے آگے قدم بڑھاتا ہے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ جن کو میں نے متولی سمجھا ہوا تھا وہ خود ایسے کمزور تھے کہ ان کو متولی سمجھنا میری غلطی تھی کیونکہ انہیں متولی بنانے میں نہ تو میری ضروریات ہی حاصل ہو سکتی تھیں اور نہ ہی وہ میرے لیے کافی ہو سکتے تھے۔پھر وہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے ارو ثابت قدمی دکھانے سے خدا تعالیٰ کو اپنا متولی پاتا ہے۔اس وقت اس کو بری راحت حاصل ہوتی ہے اور ایک عجیب طمانیت کی زندگی میں داخل ہو جاتا ہے۔خصوصاً جب خدا کسی کو خود کہے کہ میں تیرا متولی ہوا تو اس وقت جو راحت اور طمانیت اس کو حاصل ہوتی ہے وہ ایسی حالت پیدا کرتی ہے کہ جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔یہ حالت تمام تلخیوں سے پاک ہوتی ہے۔دنیاوی حالتوں میں انسان تلخی سے خالی نہیں ہو سکتا۔دشتِ دنیا کانٹوں اور تلخیوں سے بھری ہوئی ہے ؎ دشتِ دنیا جزدر و جز دام نیست جز بخلوت گاہِ آرام نیست جن کا اﷲ تعالیٰ متولی ہو جاتا ہے ۔وہ دنیا کے آلام سے نجات پا جاتے ہیں اور ایک سچی راحت اور طمانیت کی زندگی میں داخل ہو جاتے ہیں۔اُن کے لیے اﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ ومن یتق اﷲ یجعل لہ مخر جا۔ویر زقہ من حیث لا یحتسب (الطلاق : ۳‘۴) جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے