ہے جس سے انسان کی روح ہلاک ہو جاتی ہے اس سے نجات ملے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک صاف اور سچا تعلق پیدا ہو جاوے، مگر یہ باتیں تکلھ سے پید انہیں ہوسکتی ہیں۔ ان کے حصول کا ذریعہ تو وہی اسلام ہے جس میں سادگی ہے۔ یقینا یاد رکھو کہ اسلام میں اﷲ تعالیٰ نے ایسی سادگی رکھی ہے کہا گر دوسری قوموں کو اس کی حقیقت پر اطلاع ہو تو وہ اس کی سادگی پر رشک کریں۔ ایک سچے مسلمان کے لیے کچھ ضرور نہیں کہ ہزار دانہ کی تسبیح اس کے ہاتھ میں ہو۔ اور اس کے کپڑے بھگوے یا سبز یا اور کسی قسم کے رنگین ہوں اور وہ خد ارسی کے لئے دم کشی کرے یا اور اسی قسم کے حیلے حوالے کرے۔ اس کے لیے ان امور کی ہرگز ہرگز ضرورت نہیں اس لیے کہ یہ سب امور زائدہ ہیں اور اسلام میں کوئی امر زائد نہیں ہوتا۔ ہاں یہ سچ ہے کہ اسلام چاہتا ہے۔ کہ تم اندرونی طور پر بری بری ترقیاں کرو اور پانے اندر خصوصیتیں پید اکرو۔ بیرونی خصوصیتیں نری ریاکاریاں ہیں اور ان کی غرض بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ لوگوں پر ظاہر کیا جاوے۔ کہ ہم ایسے ہیں اور وہ رجوع کریں۔ حضرت امام غزالی کے زمانہ کے پیرزادے اور فقراء امام غزالی رحمۃاﷲ علیہ نے اپنے زمانہ کے پیر زادوں اور فقیروں کے عجیب عجیب حالات لکھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ افسوس ہے بڑی ابتری پھیل گئی ہے کیونکہ یہ فقیر جو اس زمانہ میں پائے جاتے ہیں وہ فقیر اﷲ نہیں ہیں بلکہ فقیر الخلق ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ہر حرکت و سکون ،لباس خورو نوس اور کلام میں حکمت پر عمل کرتے ہیں۔ مثلاً کپڑوں کے لیے وہ دیکھتے ہیں کہ اگر ہم عام غریبوں کی طرح گزی گاڑھے کے کپڑے پہنیں تو وہ عزت نہ ہوگی جو امراء سے توقع کی جایت ہے وہ ہم کو کم حیثیت اور ادنیٰ درجہ کے لوگ سمجھیں گے۔ لیکن اگر اعلیا درجہ کے کپرے پہنتے ہیں تو پھر وہ ہم کو کامل دنیا دار سمجھ کر توجہ نہ کریں گے اور دنیا دار ہی قرار دیں گے اس لیے اس میں یہ حکمت نکال لی کہ کپڑے تو اعلیٰ درجہ کے اور قیمتی اور باریک لے لیے۔ لیکن ان کو رنگ دے لیا جو فقیری کے لباس کا امتیار ہو گئے۔ اسی طرح حرکات بھی عجیب ہوتی ہیں۔ مثلاً جب بیٹھتے ہیں تو آنکھیں بند کر کے بیٹھتے ہیں او راس حالت میں لب ہل رہے ہیں گویا اس عالم ہی میں نہیں ہیں حالانکہ طبیعت فاسد ہوتی ہے۔ نمازوں کا یہ حال ہے کہ برے آدمیوں سے ملیں تو بہت ہی لمبی لمبی پڑھتے ہیں اور بطور خود سرے سے ہی نہ پڑھیں۔ ایسا ہی روزوں میں عجیب عجیب حالات پیس آتے ہیں مثلاً یہ طاہر کرنے کے لیے کہ نفلی روزے ہم رکھتے ہیں وہ یہ طریق اختیار کرتے ہیں کہ جب اکسی امری کے ہاں گئے اور وہاں کھانے کا وقت