موجود زمانہ کے پیرزادے اور مشائخ
اولیاء اﷲ کی بھی ایسی ہی حالت ہوتی ہیکہ ان میں تکلفات نہیں ہوتے بلکہ وہ بہت ہی سادہ اور صاف دل لوگ ہوتے ہیں۔ ان کے لباس اور دوسرے امور میں کسی قسم کی بناوٹ اور تصنع نہیں ہوتا مگر اس وقت اگر پیرزادوں اور مشائخوں کو دیکھاجاوے تو ان میں بڑے بڑے تکلفات پائے جاتے ہیں۔ ان کا کوئی قول اور فعل ایسا نہ پائو گے جو تکلف سے اخلی ہو گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اُمت محمدیہ ہی میں سے نہیں ہیں۔ ان کی کوئی اور ہی سریعت ہے۔ ان کی پوشاک دیکھو تو اس میں خاص قسم کا تکلف ہوگا۔ یہانتک کہ لوگوں سے ملنے جلنے اور کلام میں بھی ایک تکلف ہوتا ہے۔ ان کی خاموس محض تکلف سے ہوتی ہے۔ گویا ہر قسم کی تاثیرات کو وہ تکلف ہی سے وابستہ سمجھتے ہیں۔ برخلاف اس کے آنحضرت ﷺ کی یہ شان ہے
وما انا من المتکلفین (ص : ۸۷)
اور ایسا ہی دوسرے تمام انبیاء و رسل جو وقتاً فوقتاً آئے وہ نہایت سادگی سے کلام کرتے اور اپنی زندگی بسر کرتے تھے۔ اُن کے قوم و فعل میں کوئی تکلھ اور بناوت نہ ہوتی تھی مگر ان کے چلنے پھرنے اور بولنے میں تکلف ہوتا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اپنی شریعت جدا ہے۔ جو اسلام سے الگ اور مخالف ہے۔
بعض ایسے پیر بھی دیکھے گئے ہیں جو بالکل زنانہ لباس رکھتے ہیں یہاں تک کہ رنگین کپڑے پہننے کے علاوہ ہاتھوں میں چوڑیاں بھی رکھتے ہیں۔ پھر ایسے لوگوں کے بھی بہت سے مرید پائے جاتے ہیں۔ اگر کوئی ان سے پوچھے کہ آنحضرت ﷺ نے کب ایسی زنانہ صورت اختیار کی تھی تو اس کا کوئی جواب ان کے پاس نہیں ہے۔ وہ ایک نرالی شریعت بنانا چاہتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے اُسوہ حسنہ کو چھور کر اپنی تجویز اور اختیار سے ایک راہ بنانا چاہتے ہیں۔
میں یقینا جانتا ہوں کہ اس قسم کی باتیں سعائر اسلام میں سے نہیں بلکہ ان لوگوں نے یہ امور بطور رسوم ہندوجوں سے لئے ہیں اور نہ صرف یہی بلکہ اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو انہیں سے لی گئی ہیں جیسے دم کشی وغیرہ۔
خوب سمجھو کہ یہ امور اسلام کے بالکل برخلاف ہیں اور ان سے کوئی بھی مطلب اور مراد حاصل نہیں ہوسکتی۔ اصل غرض تو انسان کی یہ ہونی چاہیے تھی کہ دل پاک ہو اجوے۔ اور ہر قسم کے گند اور ناپاک مواد جو روح کو تباہ کرتے ہیں دور ہو جائیں تا کہ اﷲ تعالیا کے فیضان اور برکات نازل ہونے لگیں۔ اگر یہ امر حاصل نہیں تو پھر نرے تکلھات کو لے کر کیا کرو گے۔ تمہارا مقصود ہمیشہ یہی ہونا چاہیے کہ جس طرح ممکن ہو دل صاھ ہو جاوے اور عبودیت کا منشا اور مقصد پور اہو اور خطرناک زہر جو گناہ کی زہر