خانہ کعبہ جس کی تصویر انہوں نے اپنے خیال اور ذہن سے کچھ اور ہی قسم کی تجویز کی تھی وہ محض ایک کوٹھہ ہے اور اس کے ہمسایہ میں جو لوگ رہتے ہیں ان میں بعض جرائم پیشہ بھی ہیں وہ دنگا فساد بھی کر لیتے ہیں اور اکثر ان میں ایسے مفسد طبع دیکھے جاتے ہیں کہ بعض خام طبیعت کے آدمی انہیں دیکھ کر متردد ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر وہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ یہاں کی ساری آبادی کا یہی حال ہے۔ اور کل عرب ایسے ہی ہیں اور اس طرح پر ان کے دل میں کئی قسم کے شبہات پیدا ہو جاتے ہیں کیونکہ نہ وہاں وہ تجلی انوار و برکات کی دیکھتے ہیں جو انہوں نے بطور خود تجویز کر لی تھی اور نہ ملائک کی بستی پاتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اس قسم کے لوگ خود خام طبع ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ ٹھوکر کھاتے ہیں۔ یہ ان کی اپنی غلطی ہے جو وہ ایسا سمجھ لیتے ہیں اس میں خانۂ کعبہ کا کیا قصور؟ یہ کوئی ضروری امر نہین ہیکہ خانہ کعبہ میں سارے قطب اور ابدال اور اولیاء اﷲ ہی رہتے ہوں۔ خانہ کعبہ نے اس وقت بھی تو گذارہ کر ہی لیا تھا۔ جب اس کے چاروں طرف بت پرست ہی بُت پرست رہتے تھے اور خود خانہ کعبہ بتوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ خانہ کعبہ انوار وبرکات کی تجلی گہاہ ہے اور اس کی بزرگی میں کوئی کلام اور شبہ نہیں۔ پہلی کتابوں میں بھی اس کی بزرگی کا زکر ہے۔ مگر یہ تجلیات اور انوار وبرکات اس ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آستے۔ اس کے لیے دوسری آنکھ کی حاجب ہے۔ اگر وہ آنکھ کھلی ہو تو یقینا انسان دیکھ لے گا کہ خانہ کعبہ میں کس قسم کے برکات نازل ہو رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ وہ بتوں سے بھرا ہوا تھا اور اس کے زرائرین میں ابو جہل جیسے شریر تھے۔ پھر ان سے مقابلہ کر کے اگرتایسے خام طبع لوگ کوئی بات کہتے تو انہیں شرمندہ ہونا پڑتا کیونکہ اگر غور سے دیکھا جاوے تو وہ لوگ جو بیت اﷲ کے جوار میں رہتے ہیں۔ عوام سے ہزارہا درجگ اچھے ہیں اور یہ امر مقابلہ سے معلوم ہوتا ہے۔ حقیقت میں کثرت کے ساتھ ان میں نیک اور اچھے لوگ ہیں اور ان کو دیکھ کر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ خانہ کعبہ کی مجاورت نے ان کو بہت بڑا فائدہ پہنچایا ہے۔ یہ تو قانون قدرت ہی نہیں کہ دنیا میں آکر فرشتے آباد ہوں۔ پھر ایسا خیال کرنا کیسی غلطی اور نادانی ہے۔ انسانیت کے لازم حال زلات تو ضرور ہیں۔ پس مکہ میں جب انسان آباد ہیں تو ان کی مزوریوں پر نظر کرکے مکہ کو بدنام کرنا یا اس کی بزرگی اور عظمت کی نسبت شک کرنا بڑی غلطی ہے۔ سچ یہی ہے کہ کعبہ کی بزرگی اور نورانیت دوسری آنکھوں سے نطر آتی ہے جیساکہ سعدیؔ نے فرمایا ہے چوبیت المقدس دروں پر زتاب رہا کردہ دیوار بیروں خراب