جانتے تھے کہ آنحضرت ﷺ خود ہی بازاروں میں عموماً سودا سلف خریدا کرتے تھے۔ ان کے دلوں میں آنحضرت ﷺ کا جو نقشہ تا وہ تو نری بشریت تھی۔ جس میں کھانا پینا۔ سونا۔چلنا۔ پھرنا وگیرہ تمام امور اور لوازم بشریت کے موجود تھے۔ اس واسطے ان لوگوں نے رد کر دیا۔ یہ مشکل اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ لوگ اپنے دل سے ہی ایک خیالی تصویر بنالیتے ہیں کہ نبی ایسا ہونا چاہیے اور چونکہ اس تصویر کے موافق وہ اسے نہیں پاتے اس لحاط سے ٹھوکر کھاتے ہیں۔ یہ مرض یہانتک ترقی کر گیا ہے۔ کہ بعض سیعوں کا بعض ائمہ کی نسبت خیال ہے کہ وہ منہ کے راستہ پیدا ہوئے تھے لیکن یہ باتین ایسی ہیں کہ ایک عقلمند ان کو کبھی قبول نہیں کر سکتابلکہ ہنسی کرتا ہے۔ اصل یہ ہیکہ جو شخص گزر جاوے اس کی نسبت جو چاہو تجویز کر لو کہ وہ آسمان سے اُترا تھا یا منہ کے راستہ پیدا ہوا تھا لیکن جو موجود ہیں ان میں بشری کمزوریاں موجود ہیں۔ وہ روتا بھی ہے۔ کھاتا بھی ہے اور پیتا بھی ہے۔غرض ہر قسم کی بشری ضرورتوں اور کمزوریوں کو اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس کو دیک کر ان لوگوں کو جو انبیاء و رسل کی حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں گھبراہت پید اہوتی ہے۔ یہی وجہ تھی جو اﷲ تعالیٰ کو ان کے اس قسم کے اعتراضوں کا رد کرنا پڑا اور قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی (حم السجدۃ : ۷) کہنا پڑا۔ یعنی مجھ میں بشریت کے سوا جو امر تمہارے اور میرے درمیان فارق اور مابہ الامتیاز ہے۔ وہ یہ یہکہ مجھ پر اﷲ تعالیٰ کی وحی آتی ہے۔ دوسری جگہ قرآن شریف میں یہ اعتراض بھی منقول ہوا ہے کہ یہ تو بیویاں کرتا ہے۔ اس کے جواب میں بھی اﷲ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں جو بیوی نہ رکھتا ہو۔ غرض ایسی باتوں سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ خانہ کعبہ کی تجلیات اور انوار و برکات طاہری آنکھ سے نظر نہیں آتے اسی طرح پر بعض لوگ حج کو جاتے ہیں۔ اس وقت ان کے دل میں بڑا جوس اور اخلاص ہوت اہے۔ لیکن جس جوس اور تپاک سے جاتے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہی جوش اور اخلاص لے کر واپس نہیں آتے بلکہ واپس آنے پر بسااوقات پہیل سے بھی گئے گذرے ہو جاتے ہیں۔ سہل است رفتن بارادت مشکل است آمدن بارادت واپس آکر ان کے اخلاق میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیںہوتی بلکہ وہ تبدیلی کچھ اُلٹی تبدیلی ہو جاتی ہے۔ وہ جانے سے پہلے سمجھتے ہیں کہ خانہ کعبہ میں ایک عظیم الشان تجلی نور کی ہوگی۔ اور وہاں سے انوار و برکات نکلتے ہوں گے اور وہاں فرشتوں کی آبادی ہوگی لیکن جب وہاں جاتے ہیں۔ تو کیا دیکھتے ہیں کہ