اسی طرح پرآجکل لوگ کہا کرتے ہیں کہ اگر ہم نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں ہوتے تو ہم اس طرح خدمت کرتے اور یہ اخلاص دکھاتے اور یہ کرتے اور وہ کرتے۔ لیکن سچ یہی ہے کہ اگر یہ لوگ اس وقت ہوتے تو آنحضرت ﷺ کے ساتھ بھی وہی سلوک کرتے جو آجکل ہمارے ساتھ کر رہے ہیں۔ زمانہ کی معاصرت بھی ایک روک ہے اس سے لوگوں کے دل تنگ ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک رنگ کا ابتلا ہے۔
ایمان کی سلامتی کے لیے باطن پر نظر رکھنی ضروری ہے
زوالنون مصری ایک باکمال شخص تھا اور اس کی شہرت باہر دور دور پہنچی ہوئی تھی۔ ایک شخص اس کے کمال کو سنکر اس کے ملنے کے واسطے گیا اور گھر پر جاکر اسے پکارا تو اس کو جواب ملا کہ خدا جانے کہاں ہے۔ کہیں بازار میں ہوگا۔ وہ جب بازار میں ان کی تلاش کرتاہوا پہنچا تو وہ بازار میں معمولی طو رپر سادگی سے کچھ سود اخر ید رہا تھا۔ لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ذوالنون ہے۔ اس نے دیک اکہ ایک سیاہ رنگ پست قامت آدمی ہے۔ معمولی سالبا س ہے۔ چہرہ پر کچھ وجاہت نہیں۔ معمولی آدمیوں کی طرح بازار میں کھرا ہے اس سے اس کا سارا اعتقاد جاتا رہا اور کہا کہ یہ تو ہماری طرح ایک معمولی آدمی ہے۔ ذوالنون نے اس کو کہا کہ تو کس خیال ہے۔ ذوالنون نے اس کے مافی الضمیر کو دیکھ لیا۔ اس لیے کہا کہ تیری نظر ظاہر پر ہے۔ تجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
ایمان تب سلامت رہتا ہے کہ باطن پر نطر رکھی جاوے۔ کہتے ہیں لقمان بھی سیاہ منظر تھے۔ یہی وجہ ہے جو لکھ اہے کہ اﷲ تعالیا کے بندوں اور برگزیدوں کے پاس ارادت سے جانا سہل ہے۔ لیکن ارادت سے واپس آنا مسکل ہے کیونکہ ان میں بشریت ہوتی ہے اور ان کے پاس جانے والے لوگوں میں سے اکثر ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے دل میں اس کی ایک فرضی اور خیالی تصویر بنالیتے ہیں، لیکن جب اس کے پاس جاتے ہیں تو وہ اس کے برخلاف پاتے ہیں جس سے بعض اوقات وہ ٹھوکر کھاتے ہیں اور ان کے اخلاص اور ارادت میں فرق آجاتا ہے۔ اسی لیے آنحضرت ﷺ نے کھول کر بیان کر دیا کہ
قل انما انا بشر مثلکم (حم السجدۃ : ۷)
یعنی کہدو کہ بیسک میں تمہارے جیسا ایک انسان ہوں یہ اس لیے کہ وہ لوگ اعتراض کرتے تھے
وقالو اما لھذاالرسول یاکل الطعام ویمشی فی الاسواق (الفرقان : ۸)
اور انہوں نے کہا کہ یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا یہ اور بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے ۔ ان کو آخر یہی جواب دیا گیا کہ یہ بھی ایک بشر ہے اور بسری حوائج اس کے ساتھ ہیں۔ اس سے پہلے جس قدر نبی اور رسول آئے وہ بھی بشر ہی تھے۔ یہ بات انہوں نے بنظر استخفاف کہی تھی۔ وہ