ہے مگر وہ علم الیقین اور عین الیقین سے برتر ہے۔ کبھی سہود تام بے خبری تک بھی نوبت پہنچا دیتا اور حالت سکر اور بیہوشی کی غلبہ کرتی ہے۔ اس حالت سے یہ آیت مشابہ ہے فلما تجلی ربہ للجبل جعلہ دکاوخر موسی صعقا (الاعراف : ۱۴۴) لیکن حالت تام وہ یہ جس کی طرف اشارہ ہے۔ ما زاغ البصر وما طغی (النجم : ۱۸) یہ حالت اہل جنت کے نصیب ہوگی۔ پس غایت یہی ہے جس کی طرف اﷲ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے۔ وجوہ یومئذ نا ضرۃ الی ربھا ناظرۃ (القیامۃ : ۲۳،۲۴) خاکسار مرزا غلام احمد۔ ۱۸؍مارچ ۱۸۸۳ء؁ مطابق ۸ جمادی الاول ۱۳۰۰ء؁ واﷲ اعلم بالصواب ؎ٰ ۲۶؍ستمبر ۱۹۰۵ء؁ قبل دوپہر یہاں رہیں اور ان ایام کی قدر کریں یہ بھی غنیمت ہے کہ انسان اس جگہ کی صحبت کو غنیمت سمجھے جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہاں آنے یا رہنے سے دنیاوی کاروبار میں حرج ہوگاوہ بیمار ہے۔ اسے اس بیماری کا علاج کرنا چاہیے۔ دنیا کے کام تو کبھی ختم نہیں ہوتے اور نہ ہو سکتے ہیں جبتک خود انسان خدا تعالیٰ سے توفیق پا کر ان کا خاتمہ نہ کر دے۔ ابھی ہامری جماعت کو سمجھنے کے لیے بہت سی باتیں ہیں۔ رفتہ رفتہ تحریک ہوتی ہے کسی مجمع میں کوئی تحریک ہو گئی اور کسی میں کوئی۔ اس لیے جبتک یہاں انسان ایک عرصہ تک نہ رہے یا کثرت کے ساتھ نہ آتا رہے کم فائدہ ہوتا ہے اور یہ بری خامی اور بے قدری ہوتی ہے اور سلسلہ کی بدنامی کا موجب ہوتا ہے ۔ جب ایک شخص سلسلہ میں داخل ہوتا ہیاور وہ توجہ کے ساتھ ان مسائل پر جو ہم پیس کرتے ہیں نظر نہیں کرتا اور پھر اگر اس سے کوئی سوال کرتا ہے تو اُسے چپ ہونا پرتا ہے۔ ا س لیے ضروری ہے کہ ہماری کتابوں کوغور سے پڑھیں اور فکر کریں اور یہاں رہیں اور ان ایام کی قدرکریں۔ جو لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ کیا یہ دن وہ نہیں ہیں جن کے لیے بہت سے سعید لوگ حسرت کرتے چلے گئے ہیں اور یہ امور کتابوں میں درج ہیں کہ کس طرح پر ہزاروں روحیں اس آرزو میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں کہ وہ مسیح موعود کے زمانہ کو پالیتیں مگر اس زمانہ کے لوگ جس طرح پر ان ایم کی قدر نہیں کرتے اور مخالفت سے پیس آتے ہیں کیا تعجب اگر وہ یہ زمانہ پاتے تو وہ سیر ہوجاتے۔