کر لیں کہ مسیح نے کتنے مردے زندہ کئے تھے؟ پھر اس کے سوا آنحضرت ﷺ کا زمانہ مجھ سے پہلے ہے میں تو آپﷺ کا ایک خادم ہوں۔ آپﷺ کے پاس ایک مردہ کی بابت کہا گای جس کو سانپ نے کاٹھا تھا اور کہا کہ اس کی نئی شادی ہوئی ہے آپ اسے زندہ کر دیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔کہ اپنے بھائی کو دفن کرو۔ اگر حقیقی مردے زندہ ہو سکتے تو سب سے پہلے آنحصرت ﷺ کو یہ معجزہ دیاجاتا۔ ہاں یہ سچ ہے کہ بعض اوقات سخت امراض میں مبتلا اور ایسی حالت میں کہ اس میں آثار حیات مفقود ہوں اﷲ تعالیٰ اپنے ماموروں اور مرسلوں کی دعائوں کیوجہ سے انہیں شفا دی دیتا ہے۔اس قسم کا احیاء ہم مانتے ہیں اور یہاں بھی ہوا ہے اور اس کے سوا دوسری حیات روحانی حیات ہے۔ غرض یہ دو قسم کا حیاء موتی ہم مانتے ہیں۔ روحانی طو رپر مسیح کا اثر بہت کم ہوا۔ کیونکہ یہودیوں نے مانا نہیں اور جنہوں نے مانا اور ان کی تکمیل نہ ہوئی۔ ایک نے لعنت بھیج دی، دوسرے نے پکڑ وادیا اور باقی بھاگ گئے۔ ہان جسمانی طور پر بعض کے لیی دعائیں کہیں اور وہ مریض اچھے ہو گئے، اب بھی ہو رہے ہیں۔ غرض ہماری اصل غرض اور مقصد اور تعلیم وہ یہ جس کا میں ذکر کر آیا ہوں۔ یہ امور وفات مسیح وغیرہ ہماری راہ میں آگئے جو مسرکین کا گلبہ تورنے کے لیے مصلحت الٰہی نے ایسا ہی پسند فرمایا کہ چونکہ موسیٰ ؑکے آخری سلسلہ میں مسیح آیا تھا ویس یہی یہاں بھی ضروری تھا کہ مسیح آتا چنانچہ آگیا۔ بعض یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا نام مثیل موسیٰ تا اس لیے یہاں بھی مثیل مسیح ہوتا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر وہاں موسیٰ ہوتا تو شبہ پڑ جاتا۔ لیکن یہاں الیاس کی نظیر موجود تھی ا س لیے یہاں مسیح ہی کہہ دیا۔ اصل مقصد فرمایا: ہماری جماعت کو قیل و قال پر محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ اصل مقصد نہیں۔ تزکیہ نفس اور اصلاح ضروری ہے جس کے لیی اﷲ تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے۔؎ٰ ‏Amira 11-12-05 خواب کی حقیقت خواب کی فلاسفی بیان کرنے کی خاطر ایڈیٹر صاحب ’’الحکم‘‘ نے حضرت