کہتے تھے۔ اس لیے اﷲ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ ان کے اس الزام سے بریت کی اور مریم کا نام صدیقہ رکھا ۔ اور حضرت مسیح کے لیے کہا کہ وہ مس شیطان سے پاک ہے۔ اولاد دو قسم کی ہوتی ہے ایک وہ جو مس شیطان سے ہو وہ ولد الحرام کہلاتی ہے۔ دوسری وہ جو روح القدس کے مس سے ہو۔ وہ ولد الحلال ہوتی ہے۔ یہودیوں کا اس پر زور تھا کہ مسیح پر ناجائز پیدائیش کا الزام لگاتے تھے اور ان کے ہاں یہ لکھا تھا کہ ولد الحرام سات پشت تک بھی خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل نہیں ہل سکتا۔ چونکہ ان کے اس شبہ اور الزام کا جواب ضروری تھا۔ اس لیے ان کے متعلق یہ کہا گیا۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ معاذ اﷲ معاذ اﷲ آنحضرت ﷺ مس شیطان سے پاک نہ تھے۔ ایس ااعتقاد کفر صریف ہے۔ کیا کسی نے آنحضرت ﷺ اور حضرت آمنہ کی نسبت ایسا الزام لگایا؟ کبھی نہیں۔ آنحضرت ﷺ کو ہمیشہ مخالھوں نے امین اور صادق تسلیم کیا۔ برخلاف اسکے مسیح اور ان کی والدہ کی نسبت یہودیوں کے بیہودہ الزام تھے۔ خدو عیسائیوں نے انسائیکلو پیڈیا میں مان لیا ہے کہ نعوذ باﷲ وہ ولد الحرام تے۔ پھ رایسی صورت میں کس قدر ضروری تھا کہ اس کا ازالہ ہوتا۔ اب یہ ہمارے مخالف اندھے ہو کر ان کی خصوصیت بتاتے ہیں اور منبروں پر چڑھ کر بیان کرتے ہیں؛ حالانکہ یہ تو حضرت مسیح کا ایک داغ تھا جو آنحضرت ﷺ نے دھویا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے لیے اس کے بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی کیونکہ مثلاً اگر ایک شخص کے چہرہ پر سیاہی کا داگ ہوا ور اسے صاف کر دیا جاوے تو یہ کیسی حماقت ہو کہ ایک شخص جس کے چہرہ پر وہ داگ ہی نہیں بلکہ خوبصورت اور روشن چہرہ رکھتا ہو اس سے اس سیاہی کے داگ والے کو افضل کہا جاوے۔ صرف ا س لیے کہ اس کا داغ صاف ہوا ہے۔ اس قسم کی غلطیوں میں ہامرے مخالف مبتلا ہیں۔ ہم ان پر صبر کرتے اگر آنحضرت ﷺ ، اسلام اور ملت پر زد نہ ہوتی ۔ آنحضرت ﷺ سے توجب آسمان پر جانے کا معجزہ مانگا جاوے تو انہیں قل سبحان ربی (بنی اسرائیل : ۹۴) کا جواب ملے اور مسیح کی لئے تجویز کر لیا جاوے کہ وہ آسمان پر چڑھ گئے۔ ایسی خصوصیتوں کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ اسے خدا بنایا جاوے۔ پھر توحید کہاں رہی؟ انہوں نے تو ان چالیس کروڑ کی مدد کی جو اسے خدا بنا رہے۔ ہیں۔ افسوس ان لوگوں نے اصل شریعت کو چھور دیا اور عجوبہ پسند ہو گئے۔ احیاء موتی کا مسئلہ میرے متعلق یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ مسیح نے مردے زندہ کئے تھے انہوں نے کتے نے کئے ہیں؟ میں اس کا کیا جواب دوں۔ پہلے یہ تو معلوم