مسیح موعود ؑ کا ایک مکتوب گرامی حاشیہ میں شائع کیا ہے، جو درج ذیل ہے۔ یہ مکتوب کس کے نام تھا۔ اس کا ایڈیٹر صاحب نے ذکر نہیں کیا۔ (مرتب) بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم مشفقی مکرمی سلمہ اﷲتعالیٰ۔ السلام علیکم ورحۃ اﷲ وبرکاتہ آپ کی خواب کے آثاریوں ہی نظر آتے ہیں کہ انشاء اﷲ رؤیا صالحہ وواقعہ صحیحہ ہوگا۔ مگر اس بات کے لیے کہ مضمون خواب حیز قوت سے حد فعل میں آوے۔ بہت سی محنتیں درکار ہیں۔ خواب کے واقعات اس پانی سے مشابہ ہیں کہ جو ہزاروں من مٹی کے نیچے زمین کی تہہ تک میں واقع ہے جس کے وجود میں تو کچھ شک نہیں لیکن بہت سی جانکنی اور محنت چاہیے تا وہ مٹی پانی کے اوپر سے بکلی دور ہو جائے اور نیچے سے پانی شیریں اور مصافا نکل آوے۔ ہمت مراداں مدد خدا۔ صدق اور وفا سے خدا تعالیٰ کو طلب کرنا موجب فتحیابی ہے۔ والذینا جاھدو النھدینہم سبلنا (العنکبوت : ۷۰) گویند سنگ لعل شود در مقام صبر آرے شود و لیک بخون جگر شود گرچہ و صالش نہ بکوشش دہند ہر قدر اے دل کہ توانی بکوشش آپ کی ملاقات کے لیے میں بھی چاہتا ہوں مگر وقت مناسب کا منتظر ہوں۔ بے وقت حج بھی فائدہ نہیں کرتا۔ اکثر حاجی۔جوبڑی خوشی سے حج کرنے کو جاتے ہیں اور پھر دل سخت ہو کر آتے ہیں۔ اس کا یہی باعث ہے کہ انہوں نے بے وقت بیت اﷲ کی زیارت کی اور بجز ایک کوٹھہ کے اور کچھ نہ دیکھا اور اکثر مجادرین کو صدق اور صلاح پر نہ پایا۔ دل سخت ہو گیا۔ علیٰ ہذ القیاس۔ ملاقات جسمانی سے بھی کئی قسم کے ابتلا پیش آجاتے ہیں۔ الاماشاء اﷲ۔ آپ کے سوالات کا جواب جو اس وقت میرے خیال میں آتا ہے۔ مختصر طور پر عرض کیا جاتا ہے۔ آپ نے پہلا سوال یہ کیا ہے کہ پورا پورا علم جیسا بیداری میں ہوتا ہے۔ خواب میں کیوں نہیں ہوتا۔ اور خواب کا دیکھنے والا اپنی خواب کو خواب کیوں نہیں سمجھتا؟ سو آپ پر واضح ہو کہ خواب اس حالت کا نام ہے جب بباعث غلبۂ رطوبت مزاجی جو دماغ پر طاری ہوتی ہے۔ حواس طاہری و باطنی اپنے کاروبار معمولی سے معطل ہو جاتے ہیں’ پس جب خواب کو تعطل حواس لازم ہے تو نا چار جو علم اور امتیاز اور تیقظ بذریعہ حواس انسان کو حاصل ہوتا ہے وہ حالت خواب میں ببعث تعطل حواس نہیں رہتا کیونکہ جب حواس