ہوگیا ہے۔تو ہمیں وہ قصہ یاد آگیا۔میں نے اسی جگہ سے دعا شروع کر دی۔گھر پہنچنے تک برابر دعا ہی کرتا رہا تو دیکھتا کیا ہوں کہ جب میں گھر پہنچا تو وَرم کا نام و نشان تک بھی نہ تھا۔پھر میں نے لوگوں کو دکھایا اور سارا قصہ بیان کیا۔
اسی طرح ایک دفعہ میرے دانت کو سخت درد شورع ہو گیا۔میں نے لوگوں سے ذکر کیا تو اکثر نے صلاح دی کہ اس کو نکلوادیان بہتر ہے۔میں نے نکلوانا پسند نہ کیا اور دعا کی طرف رجوع کیا تو الہام ہوا
واذا مرضت فھو یشفینی۔
اس کے ساتھ ہی مرض کو بالکل آرام ہو گیا۔اس بات کو قریباً پندرہ سال ہو گئے ہیں۔
خدا تعالیٰ صالحین کا متولی ہوتا ہے
اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے ایمان کے موافق اسباب سے نفرت ہو جاتی ہے۔جس قدر ایمان کامل ہوتا ہے۔اسی قدر اسباب سے نفرت ہوتی جاتی ہے۔حقیقت میں دیکھا گیا ہے کہ دنیابڑے دھوکے میں پڑی ہوئی ہے۔جن باتوں کو اپنی ترقی کے ذرائع سمجھی بیٹھی ہے۔اصل میں وہی ذلت کا موجب ہوتی ہے۔دنیاوی عزت بڑھانے اور عروج و مالداری حاصل کرنے کے لیے طرح طرح کے فریب و دجل اور دھوکے استعمال کرتے ہیںاور طرح طرح کی بے ایمانیوں سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔انہیں مکاریوں کو اپنی مرادوں کا ذریعہ سمجھے ہوئے ہیں۔یہاںنتک کہ بڑے فجر سے اپنی کامیابیوں کا دوستوں میں ذکر کرتے ہیں اور اپنی اولاد کو بھی یہی تعلیم دیتے ہیں لیکن اگر نظر انصاف اور معرفت سے دیکھ اجاوے تو انکے یہ طریق کوئی راحت نہیں بخشتے۔جب پوچھو تو شاکی اور نالاں ہی نظر آتے ہیں اور کبھی راحت اور طمانیت اُن کے حال سے ظاہر نہیں ہوتی۔طمانیت کی رئویت بجز فضل خدا کے نہیں ہوتی۔جب تک انسان اﷲ تعالیٰ پر کامل ایمان نہیں رکھتا اور اس کے وعدوں پر سچا یقین نہیں کرتا اور ہر ایک مقصود کا دینے والا اسی کو نہیں سمجھتا اور کامل اصلاح اور تقویٰ اختیار نہیں کر لیتاتو اس وقت تک وہ حقیقی راحت دستیاب نہیں ہوسکتی۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
وھو یتولی الصالحین (الاعراف : ۱۹۷)
یعنی جو صلاحیت اختیار کرتے ہیں خدا تعالیٰ اُن کا متولی ہو جاتا ہے۔انسان جو متولی رکھتا ہے اس کے بہت بوجھ کم ہو جاتے ہیں۔بہت ساری ذمہ داریاں گھٹ جاتی ہیں۔بچپن میں ماں بچے کی متولی ہوتی ہے،تو بچے کو کوئی فکر اپنی ضروریات کا نہیں رہتا۔وہ خود ہی اس کی ضروریات کی کفیل ہوتی ہے۔اس کے کپڑوں اور کھانے پینے کے خود ہی فکر میں لگی رہتی ہے۔اس کی صحت قائم رکھنے کا دھیان اسی کو رہتا ہے۔اس کو نہلاتی اور دھلاتی ہے اور کھلاتی اور پلاتی ہے۔یہانتک کہ بعض وقت اس کو مار کر کھنا کھلاتی ہے اور پانی پلاتی اور کپڑا پہناتی