کا زمانہ ہے۔ جس قدر خرابیاں اور فسق و فجور پھیلا ہے۔ اس زمانہ میں ہی پھیلا ہے۔ اگر صحابہ کرامؓ ہوتے تو وہ بھی شناخت نہ کر سکتے۔ اس زمانہ کا توحوالہ دینا ہی عقلمندی نہیں۔ وفات مسیح کا مسئلہ تو ایسا صاف ہو چکاہے کہ اب کوئی عقل اس کے خلاف تجویز نہیں کرسکتی۔ اﷲ تعالیٰ نے صاف طور پر فرمایا ہے کہ فوت ہو گئے خود مسیح نے اپنی وھات کا اقرار کیا۔ آنحضرت ﷺ نے اُن کو مردوں میں دیکھا اور پھر صحابہؓ نے آنحضرت ﷺ کی وفات پر پہلا اجماع اسی پر کیا اور فیصلہ کر دیا۔ صحابہؓ کا اجماع غلطی پر نہیں ہو سکتا۔کیونکہ صحابہ کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہونے کی فضیلت ہے۔ وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (آل عمران : ۱۴۵) میں کہتے ہیں کہ خلت کے معنے موت کے نہیں۔ مگریہ تو ان کی غلطی ہے اس لیے کہ خود اﷲ تعالیٰ نے خلت کے معنے کردیئے ہیں افائن مات او قتل (آل عمران : ۱۴۵) اگر اس کے سوا کوئی اور معنے ہوتے جو یہ کرتے ہیںتو پھر رفع الجسد العنصری بھی ساتھ ہوتا۔ مگر قرآن شریف میں تو ہے نہیں پھر ہم کیونکر تسلیم کر لیں۔ ایسی صورت میں درمیانی زمانہ کی شہادت کو ہم کیا کریں؟ اور پھر تعجب یہ ہے کہ اس زمانہ میں بھی اسی مذہب کے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اس کی وفات کا اقرار کیا ہے۔ اور اﷲ تعالیٰ نے اگر میرا نام عیسیا رکھا تو اس میں اسلام کا کیا برا ہوا؟ یہ تو اسلام کا فخر ہوا اور آنحضرت کا فخر ہوا کہ وہ شخص جسے چالیس کروڑ انسان خدا سمجھتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی اُمت کا ایک فرد ان کمالات کو پالیتا ہے بلکہ اس سے بڑھ اجت اہے۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیس یلکھ اہے کہ ہارون رشید نے مصر کا علاقہ ایک حبشی کودیدیا ۔ کسی نے پوچھا تو جواب دیا کہ یہ وہی مصر ہے جس کی حکومت سے فرعون نے خدائی کا دعویا کر دیا تھا۔ اسی طرح پر مسیح کی خدائی پر زومارنے کے لیے اﷲ تعالیٰ نے مجھے مسیح بنا دیا تا آنحضرت ﷺ کی علو شان اس سے ظاہر ہو۔ مس شیطان کی حقیقت میں حیران ہوتا ہوں جب دیکھتا ہوں کہ ان لوگوں نے مسیح کو بہت سی خصوصیتیں ایسی دے رکھی ہیں جو اور کسی کو نہیں دی گئیں۔ مثلاً کہتے ہیں کہ مَسِّ سیطان نہیں ہوا بلکہ اﷲ تعالیٰ کے راستباز اور صادق بندوں میں سے بھی کسی کو مس شیطان نہیں ہوتا۔ مطلب اس سے اور تھا ۔ اور انہوں نے کچھ اور سمجھ لیا۔ اگر صاف یہ اعتقاد رکھاجاوے کہ مسیح ہی مس شیطان سے پاک تھے اور کوئی پاک نہ تھا تو یہ کلمۂ کفر ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہودی مریم علیہا السلام کو معاذاﷲ زانیہ اور حضرت مسیح کو نعوذ باﷲ ولد الزنا