کلمہ کفر ہے۔ آنحضرت ﷺکا سب سے بڑ مقام تو یہ تھا کہ آپ محبوب الٰہی تھے۔ لیکن اﷲ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں کو بھی اس مقام پر پہنچنے کی راہ بتائی جیسا کہ فرمایا
قل ان کنتم تحبون اﷲ فاتبعونی یحببکم اﷲ (آل عمران : ۳۲)
یعنی ان کو کہدو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ محبوب الٰہی بن جائو تو میری اتباع کرو۔ اﷲ تعالیٰ تم کو اپنا محبوب بنالیگا۔ اب غور کرو کہ آنحضرت کی کامل اتباع محبوب الٰہی بنا دیتی ہے تو پھر اور کیا چاہیے؟ مگر اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے اﷲ تعالیٰ ہی کو شناخت نہیں کیا۔
ما قدرو اﷲ حق قدرہ (الانعام : ۹۶)
ایسا ہی شیعہ ہیں۔ انہوں نے فقط اتنا ہی سمجھ لیا ہے کہ امام حسین رضی اﷲ عنہ کے لیے روپیٹ لینا ہی نجات کے واسطے کافی ہے۔ یہ کبھی ان کو خواہس نہیں ہوتی کہ ہم امام حسین ؓ کی اتباع میں ایسے کھوئے جاویں کہ خود حسین بن جاویں؛ حالانکہ اﷲ تعالیا تو کہتا ہے کہ اس وقت تک نجات نہیں جبتک انسان نبی کا روپ نہ ہو جاوے۔ وہ انسان جو اپنے مراتب اور مدارج میں ترقی نہیں چاہتا وہ مخنثوں کی طرح ہے۔ میں کھول کر کہتا ہوں کہ جس قدر انبیاء و رسل گذرے ہیں ان سب کے کمالات حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس لیی کہ ان کے آنے کی غرض اور غایت ہی یہی تھی کہ لوگ اس نمونہ اور اسوہ پر چلیں۔
موت و حیات مسیح کا مسئلہ
یہ امور ہیں جن کی وجہ سے ہم کو بدنام کیا جارہا ہے۔ موت و حیات مسیح کا مسئلہ تو یونہی راہ میں آگیا۔ بہت سے مصالح الٰہی تھے جو یہ مسئلہ پیس آگیا؛ ورنہ اصل مقاصد اور اغراض ہماری بعثت کے اور ہیں۔ ہاں یہ مسئلہ ثونکہ تعلیم الٰہی کے خلاف تھا۔ اور اس میں توحید کے مصفیٰ چشمہ کو مکدر کرنے والے اجزا موجود تھے۔ اس لیے اﷲ تعالیٰ نے ا سکا ازالہ کر دیا اور صاف کر دیا کہ سب نبی فوت ہو گئے ہیں۔ مسیح علیہ السلام میں کوئی ایسی خصوصیت نہیں جو دوسرے نبیوں کو نہ ملی ہو۔
میں تسلیم کرتا ہوں کہ مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر گیا ہے۔ لیکن میں یہ کبھی تسلیم نہیں کر سکتا کہ دوسرے نبی جسم کے بغیر آسمان پر گئے ہیں۔ جس قسم کے جسم ان کو عطا ہوئے ہیں وہی جسم مسیح کو دیا گیا ہے اوریہ وہ جسم ہے جو مرنے کے بعد عطا ہوتا ہے۔ یہ پرانی باتیں ہیں نئی نہیں۔ چونکہ انہوں نے قرون ثلاثہ کی باتیں بھلادی ہیں۔ اس لیے بار بار کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادے غلطی پر تھے۔ میں نہیں کہتا کہ وہ غلطی پر تھے۔ آنحضرت ﷺ نے خود فرمایا کہ وہ زمانہ فیج اعوج ہے۔ آنحضرت ﷺ کے مقابل پر بھی کفار ایسا ہی کہتے تھے کہیہ ہمارے باپ دادوں کے خلاف ہے۔ یہ باپ دادوں کی سند صحیح نہیں ہوسکتی۔ ایک زمانہ قرون ثلاثہ کے بعد گذرا ہے جس کو شیطانی زمانہ کہتے ہیں یہ درمیانی زمانہ ہزار سال