کامل متبع ہوتا ہی نہیں۔ جب تک بروزی رنگ میں آنحضرت ﷺ کے کمالات کو اپنے اندر نہ رکھتا ہو اور حقیقت میں یہ بات صحیح بھی ہے۔ کیونکہ کامل اتباع آنحضرت ﷺ کے لیے لازم ہے کہ اس کے ثمرات اپنے اندر پیدا کرے۔ جب ایک سخص کامل اطاعت کرتا ہے اور گویا اطاعت آنحضرت میں محو اور فنا ہو کر گم ہو جاتا ہے۔ اس وقت اس کی حالت ایسی ہوتی ہے جیسے ایک شیشہ سمانے رکھا ہوا ہو اور تمام و کمال عکس اس میں پڑے۔
میں کبھی اﷲ تعالیا کے فضل اور برکات اور ان تاثیرات کوجو آنحضرت ﷺ کے کامل اتباع سے ملتی ہیں محدود نہیں کرسکتا بلکہ ایسا خیال کرنا کفرسمجھتا ہوں۔
آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ بہست میں ایک مقام ہے جو مجھے ہی ملے گا۔ ایک صحابی یہ سنکر روپڑا۔ آپؐ نے جو پوچھا کہ تو کیوں روپڑا؟ تو اس نے کہا یارسول اﷲ مجھے آپؐ کے ساتھ محبت ہے۔ جب آپؐ اس مقام میں ہوں گے تو میں کہاں ہوں گا؟ آپؐ نے فرمایا کہ تو میرے ساتھ ہو گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپﷺ نے اس کے وجود کو اپنے اندر لے لیا۔
غرض یہ یقینا یاد رکھو کہ کامل اتباع کے ثمرات ضائع نہیں ہو سکتے۔ یہ تصوف کا مسئلہ ہے۔ اگر طلی مرتبہ نہ ہوتا تو اولیاء امت تومر جاتے۔ یہی کامل اتباع اور بروزی اور ظلی مرتبہ ہی تو تھا جس سے بایزیدؒ محمد کہلایا اور اس کہنے پر ستر مرتبہ کھر کا فتویا ان کے خلاھ دیا گیا اور انہیں شہر بدر کیا گیا۔
مختصر یہ کہ لوگ ہماری مخالفت کرتے ہیں انہیں اس بات کا علم نہیں اور وہ ا س حقیقت سے بے خبر ہیں کاس وہ اس حالی کیفیات سے واقف ہوتے تو انہیں معلوم ہوتا۔ آنحضرت ﷺ کی قدر اور حقیقت ان لوگوں نے سمجھی ہی نہیں۔ اگر آنحضرت ﷺ کی اتباع کی تاثیرات اور ثمرات بھی باقی نہیں ہیں تو شریعت کے اتباع کی حاجب ہی کیا جبکہ ا سکے نتائج اور برکات ہم کو مل نہیں سکتے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ ایک بیہودہ اور کفر یہ خیال ہے۔ اسلام کی اتباع کے ثمرات اب بھی اور ہمیشہ مل سکتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کی ذات میں بخل نہیں اور نہ اس کے ہاں کسی بات کی کمی۔
بعض آدمی اپنی بیوقوفی اور شتابکاری سے یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ کیا ہم نے ولی بننا ہے۔ میرے نزدیک ایسے لوگ کفر کے مقام پر ہیں۔ اﷲ تعالیٰ تو سب کو ولی کہتا ہے اور سب کو ولی بنانا چاہتا ہے۔اسی لیے وہ اھدنا الصراط المستقیم کی ہدایت کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ تم منعم علیہ گروہ کی مانند ہو جائو۔ جو کہتا ہے کہ میں ایسانہیں ہوسکتا۔ وہ اﷲ تعالیٰ پر بخل کی تہمت لگاتا ہے اور اس لیے یہ