یہ امور ہیں جو ہم اپنی جماعت میں پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ان کی ہی اشاعت ہمارا مقصود ہے۔ میں یقینا جانتا ہوں اور کھول کر کہتا ہوں کہ انہیں امرو کی پابندی سے مسلمان مسلمان ہوں گے اور اسلام دوسرے ادیان پر غالب آئے گا۔ اگر اﷲ تعالیٰ مسیح کی موت یا مسیح موعود ہوین کے امور کو ہماری راہ میں نہ ڈال دیتا تو ہمیں کچھ بھی ضرورت نہ تھی کہ عیسیٰ کہلاتے مگر میں کیا کر سکت اہوں۔ جب خود اس نے مجھے اس نام سے پکارا اور اس کی اشاعت اور اعلان پر مجھے حکم دیا۔ میں خوب جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لیے مجھے عیسیٰ کہلانے کی کچھ بھی حاجب نہ تھی اور منزل مقصود پر پہنچنے کے لیی اس کی کچھ بھی حاجت نہیں اور نہ قرآن شریف میں یہ لکھا ہے۔ مگر اﷲ تعالیا نے ایسا ہی چاہا اور اس لیے چاہا کہ آنحضرت کی عزت اور عظمت کا اظہار ہو اور ایک عاجز انسان جس کو غلطی سے خدا بنا لیا گیا ہے۔اس کی حقیقت دنیا پر کھل جاوے۔ اﷲ تعالیٰ کی برکات اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے فیوض بند نہیں ہوں گے میں یہ بھی ظاہر کرتا ہوں کہ ہم نیکی کے ثمرات کو محدود نہیں کرتے اور نہ خدا تعالیا کے ھضل اور فیوض کی حد بندی کرتے ہیں کہ وہ اب ختم ہو گئے ہیں اور کسی دوسر ے کو نہیں مل سکتے۔ یہ بالکل غلط بات ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے ہاں کسی بات کی کمی نہیں ہے اور کوئی شخص بھی جو مجاہدہ کرے اور اس راہ پر جو اس نے بتائی ہے چلے محروم نہیں رہ سکتا۔ ہاں یہ بالکل سچ ہے کہ جو کچھ ملے گا وہ آنحضرت ﷺ کی سثی اور کامل اطاعت اور اتباع پر ملے گا۔ اگر یہمان لیا جاوے کہ بس اب خد اتعالیٰ کے برکات کا دروازہ بند ہے تو ال تعالیٰ کویا تو بخیل ماننا پڑے گا اور یا یہ کہنا پڑے گا کہ خاتمہ ہو گیا۔ مگر سبحان ربی۔ وہ اس قسم کے نقصوں سے پاک ہے۔ جو شخص سچے دل سے خد اتعالیٰ کے حضور آتا ہے و ہ خالی نہیں جاتا۔ پاکیزہ قلب ہونے کی ضرورت ہے ورنہ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم (الفاتحہ : ۶،۷) کی تعلیم اور تاکید بے فائدہ ہو جاتی ہے۔ اگر وہ انعام اکرام اب کسی کو ملنے ہی نہیں ہیں تو پھر پانث وقت اس دعا کے مانگنے کی کیا حاجب ہے؟ یہ بڑی غلطی ہے جو مسلمانوں میں پھیل گئی ہے؛ حالانکہیہی تو اسلام کا حسن اور خوبی تھی کہ اس کے برکات اور فیوض اور اس کی پاک تعلیم کے ثمرات تازہ بتازہ بہت مل سکتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی کامل اتباع کے ثمرات تمام صوھیوں اور اکابرانِ اُمت کا یہی مذہب ہے بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ