میں کوئی کثافتنہ ہوگی اور سب سے بڑھ کر جو لذت ہے وہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا دیدار ہوگا مگر دیدار الٰہی کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہاں ہی سے تیاری ہو۔ اور اس کے دیکھنے کے لیے یہاں ہی سے انسان آنکھیں لے جاوے۔ جو شخص یہاں تیایر کرکے نہ جاویگا وہ وہاں محروم رہے گا چنانچہ فرمایا
من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی (بنی اسرائیل : ۷۳)
اس کے یہ معنے نہیں کہ جو لوگ یہاں نابینا اور اندھے ہیں وہ وہان بھی اندھے ہوں گے۔ نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ دیدار الٰہی کے یے یہاں سے حواس اور آنکھیں لے جاوے اور ان آنکھوں کے لیے ضرورت ہے تبتل کی تزکیۂ نفس کی اور یہ کہ خدا تعالیٰ کو سب پر مقدم کرو۔ اور خدا تعالیٰ کے ساتھ دیکھو، سنو اور بولو۔ اسی کا نام فنا فی اﷲ ہے اور جبتک یہ مقام اور درجہ حاصل نہیں ہوتا نجات نہیں۔
خدا تعالیٰ سے محبت پیدا کرنے کا ذریعہ
ہاں یہ اعتراض ہوت اہے کہ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق قوی اور محبت صافی تب ہو سکتی ہے جب اس کی ہستی کا پتہ لگے۔ دنیا اس قسم کے شبہات کے ساتھ خرب ہوئی ہے۔ بہت سے تو کھلے طو رپر دہریہ ہو گئے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دہریہ تو نہیں ہوئے مگر ان کے رنگ میں رنگین ہیں اور اسی وجہ سے دین میں سست ہو رہے ہیں۔ اس کا علاج یہی ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں تا ان کی معرفت زیادہ ہو اور صادقوں کی صحبت میں رہیں جس سے وہ اﷲ تعالیٰ کی قدرت اور تصرف کے تازہ بتازہ نشان دیکھتے رہیں۔ پھ روہ جس طرح پر چاہے گا اور جس راہ سے چاہے گا معرفت بڑھادے گا اور بصیرت عطا کرے گا اور ثلج قلب ہو جائے گا۔
یہ بالکل سچ ہے کہ جس قدر اﷲ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی عظمت پر ایمان ہوگا۔ اسی قدر اﷲ تعالیٰ سے محبت اور خوف ہوگا اور نہ غفلت کے ایام میں جرائم پر دلیر ہو جائے گا۔ اﷲ تعالیٰ سے محبت اور اس کی عظمت پر ایمان ہوگا۔ اسی قدر اﷲ تعالیٰ سے محبت اور خوف ہوگا ورنہ غفلت کے ایام میں جرائم پر دلیر ہو جائے گا۔ اﷲ تعالیٰ سے محبت اور اس کی عظمت اور جبروت کا رعب اور خوف ہی دوایسی چیزیں ہیں جن سے گناہ جل جاتے ہیں اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ انسان جن اشیاء سے ڈرتا ہے، پرہیز کرتا ہے۔ مثلاً جانتا ہیکہ آگ جلادیتی ہے اس لیے آگ میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔ یا مثلاً اگر یہ علم ہو کہ فلاں جگہ سانپ ہے تو اس راستہ سے نہیں گذرے گا۔ اسی طرح اگر اس کو یہ یقین ہو جاوے کہ گناہ کا زہر اس کو ہلاک کر دیت اہے اور اﷲ تعالیٰ کی عظمت سے ڈرے اور اس کو یقین ہو کہ وہ گناہ کو ناپسند کرتا ہے اور گناہ پر سخت سزا دیتا ہے تو اس کو گناہ پر دلیری اور جرأت نہ ہو۔ زمین پر پھر اس طرح سے چلتا ہے جیسے مردہ چلتا ہے۔ ا سکی روح ہر وقت خدا تعالیٰ کے پاس ہوتی ہے۔