اس قسم کے تقیہ کیا کرتے ہیں؟ کبھی نہیں۔ وہ دلیر ہوتے ہیں اور انہیں کسی مصیبت اور دکھ کی پروا نہیں ہوتی۔ وہ جو کچھ لے کر آتے ہیں اسے چھپا نہیں سکتے خواہ ایک شخص بھی دنیا میں ان کا ساتھی نہ ہو۔ وہ دنیاسے پیار نہیں کرتے۔ ان کا محبوب ایک ہی خدا ہوت اہے۔ وہ اس راہ میں ایک مرتبہ نہیں ہزار مرتبہ قتل ہوں ا سکو پسند کرتے ہیں۔ اس سے سمجھ لو کہ اگر اﷲ تعالیٰ کے ساتھ سچے تعلق کا مزا اور لطف نہیں تو پھر یہ گروہ کیوں مصائب اٹھاتے ہیں؟ آنحضرت ﷺ کے حالات کو پڑھو کہ کفار نے کس قدر دکھ آپﷺ کو دیئے۔ آپﷺ کے قتل کا منصوبہ کیا گیا۔ طائھ میں گئے تو وہاں سے خون آلود ہو کر پھرے۔ آخر مکہ سے نکلنا پڑا۔ مگر وہ بات جو دل میں تھی اور جس کے لیے آپﷺ مبعوث ہوئے تھے اُسے ایک آن کے لیی بھی نہ چھوڑا۔
یہ مصائب اور تکالیف کبھی برداشت نہیں ہو سکتیں جب تک اندرونی کشش نہ ہو۔ ایک غریب انسان کے لیے دو چار دشمن بھی ہوں وہ تنگ آجاتا ہے اور آخر صلح کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مگر وہ جس کا سارا جہاں دشمن ہو وہ کیونکر اس بوجھ کو برداشت کرے گا۔ اگر قوی تعلق نہ ہو۔ عقل اس کو قبول نہیں کرتی۔
مختصر یہ کہ خدا تعالیٰ کی محبت کی لذت ساری لذتوں سے بڑھ کر ترازو میں ثابت ہوتی ہے۔ پس وہ لذات جو بہشت میں ملیں گی۔ یہ وہی لذتیں ہیں جو پہلے اُٹھا چکے ہیں۔ اور وہی ان کو سمجھتے ہیں جو پہلے اٹھا چکے ہیں۔
نعماء جنت کیونکر ہوں گی
اگر کہو کہ وہ نعمتیں کیوں کر ہوں گی؟ تو اس کا جواب صاھ ہے اﷲ تعالیٰ خلق جدید پر قادر ہے۔ خدو انسان کا اپنا وجود بھی خیالی ہے۔ جس قطرہ سے پیدا ہوتا ہے وہ کیا چیز ہے؟ پھر خیال کرو کہ اس سے کیسا اچھا انسان بناتا ہے۔ کیسے عقلمند، خوب صورت۔ بہادر۔ پھر وہی خدا ہے جو دوسرے عالم میں خلق جدید کرے گا۔ دیکھنے میں وہ لذات اور میوہ جات ہمرنگ ہوں گے لیکن کھانے میں ایسے لذیذ ہوں گے کہ نہ کسی آنکھ نے ان کو دیکھانہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی زبان نے ان کو چکھا اور نہ وہ کسی خیال میں گذرے۔
بہشت کی لذات کی کیفیت
بہشت کی لذات میں ایک اور بھی خوبی ہے جو دنیا کی لذتوں میں اور جسمانی لذتوں میں نہیں ہے۔ مثلاً انسان روٹی کھاتا ہے تو دوسری لذتیں اسے یاد نہیں رہتی ہیں۔مگر بہشت کی لذات نہ صرف جسم ہی کیلئے ہوں گی بلکہ روح کے لیے بھی لذت بخس ہوں گی۔ دونوں لزتیں اس میں اکٹھی ہوں گی اور پھر اس