متمثلات سے لطف اُٹھائیں گے تو اُن کو وہ ایمانی لذت آجائے گی اور ان مجاہدات اور اعمال صالحہ کا مزا آجائیگا جو اس عالم میں انہوں نے کئے تھے اس لیے وہ کہیں گے ھذاالذی رزقنا من قبل (البقرۃ : ۲۶) محبت الٰہی کی لذات گرض جس قدر قرآن شریف کو کوئی تدبر اور گور سے پڑھے گا اسی قدر وہ اس حقیقت کو سمجھ لے گا کہ ان لذات کا تمثیلی رنگ میں فائدہ اٹھاے گا۔ محبت الٰہی کی لذات ہیں۔ لذت کا لفظ جو مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے وہ جسمانی لذت کے مفہوم سے ہزاروں درجہ زیادہ روحانی لذت میں رکھتا ہے۔ اگر اس کی محبت کی لذت میں غیر معمولی سیری اور سیرابی نہ ہو تو اﷲ تعالیٰ کے محب جسمانی لزات کو ترک کیوں کریں۔ یہاں تک کہ بعض اس قسم کے بھی ہو گذرے ہیں جنہوں نے سلطنت تک کو چھوڑ دیا۔ چنانچہ ابراہیم ادھم نے سلطنت چھوردی۔ اور انبیاء علیہم السلام نے ہزاروں لاکھوں مصائب کو برداشت کیا۔ اتر وہ لذت اور ذوق اس محبت الٰہی کی تہہ میں نہ تھا جو انہیں کشاں کشاں لیے جاتا تھا تو پھر کیا بات تھی کہ اس قدر مصائب کو انہوں نے خوشی کے ساتھ اُٹھا لیا۔ آنحضرت ﷺ چونکہ اس درجہ میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔ اس لیے آپؐ کی زندگی کا نمونہ بھی سب سے افضل و اعلیا ہے۔ کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ کے سامنے دنیا کی ساری نعمتیں اور عزتیں پیش کیں۔ مال و دولت، سلطنت، عورتیں۔ اور کہا کہ آپؐ ہمارے بتوں کی مزمت نہ کریں۔ اور یہ توحید کا مذہب پیش نہ کریں۔ اس خیال کو جانے دیں۔ وہ دنیادار تھے۔ ان کی نطر دنیا کی فانی اور بے حقیقت لزتوں سے پرے نہ جاسکتی تھی۔ انہوں نے سمجھا کہ یہ تبلیغ انہیں اغراض کے لیے ہوگی مگر آپؐ نے اس ساری باتوں کو رد کر دیا۔ اور کہا کہ اگر دائیں بائیں آفتاب اور ماہتاب بھی لا کر رکھ دو تب بھی میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا۔ پھر اس کے بالمقابل انہوں نے آپﷺ کو وہ تکالیف پہنچائیں جن کا نمونہ کسی دوسرے شخص کی تکالیف میں نظر نہیں آتا۔ لیکن آپؐ نے ان تکالیف کو بڑی لزت اور سرور سے منظور کیا۔ مگر اس راہ کو نہ چھوڑا۔ اب اگر کوئی لذت اور ذوق نہ تھا تو پھر کیا وجہ تھی جو ان مصائب اور مشکلات کو برداشت کیا؟ وہ وہی لذت تھی جو اﷲ تعالیٰ کی محبت میں ملتی ہے اور جس کی مثال اور نمونہ کوئی پیش نہیں کیا جا سکتا۔ جماعت کے قیام کا مقصد محبت الٰہی کو پیدا کرنا ہے خدا تعالیٰ نے اس وقت ایک صادق کو بھیج کر چاہا ہے کہ ایسی جماعت تیار کرے جو اﷲ تعالیا سے محبت کرے۔ میں دیکھتا ہوں کہ بعض کثے لوگ داخل ہو جاتے ہیں اور پھر ذرا سی دھمکی ملتی ہے اور لوگ دراتے ہیں تو پھر خط لکھ دیتے ہیں کہ کچھ تقیہ کر لیا ہے۔ بتائو انبیاء علیہم السلام