بغیر اعمال صالحہ کے زندہ اور قائم نہیں رہ سکتا۔اگر ایمان ہو اور اعمال صالحہ نہ ہوں تو ایمان ہیچ ہے اور اگر اعمال ہوں اور ایمان نہ ہو تو وہ اعمال ریاکاری ہیں۔ پس قرآن شریش نے جو بہشت پیش کیا ہے اس کی حقیقت اور فلاسفی یہی ہے کہ وہ اس دنای کے ایمان اور اعمال کا ایک ذل ہے اور ہر سخص کی بہشت اس کے اپنے اعمال اور ایمان سے شروع ہوتی ہے اور اس دنیا میں ہی اس کی لذت محسوس ہونے لگتی ہے اور پوشیدہ طور پر ایمان اور اعمال کے باگ اور نہریں نظر آتی ہیں۔ لیکن عالم آخرت میں یہی باغ کھلے طور پر محسوس ہوں گے اور ان کا ایک خارجی وجود نظر آجائیگا۔ قرآن شریف سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان کی آبپاسی اعمال صالحہ سے ہوتی ہے بغیر اس کے وہ خشک ہو جاتا ہے۔ پس یہاں دو باتیں بیان کی ہیں ایک یہ کہ وہ بہشت باغ ہے۔ دوسرا ان درختوں کی نہروں سے آبپاشی ہوتی ہے۔ قرآن شریف کو پڑھو اور اول سے اول سے آخر تک اس پر غور کرو تب اس کا مزہ آئے گا کہ حقیقت کیا ہے۔ ہم مجاز اور استعارہ ہرگز پیش نہیں کرتے بلکہ یہ حقیقت الامر ہے ۔ وہ خدا تعالیٰ جس نے عرم سے انسان کو بنایا ہے اور جو خلق جدید پر قادر ہے وہ یقینا انسان کے ایمان کو اشجار سے متمثل کر دے گا اور اعمال کو انہار سے متمثل کرے گا اور واقعی طو رپر دھا دے گا یعنی ان کا وجود فی الخارج بھی نظر آئے گا۔
اس کی مختصر سی مثال یوں بھی سمجھ میں آسکتی ہے کہ جیسے انسان خواب میں عمدہ اور شیریں پھل کھاتا ہے ارو ٹھندے اور خوشگوار پانی پیتا ہے اورفی الواقعہ وہ پھل اور آب سرد ہوتا ہے۔ اس وقت اس کے ذہن میں کوئی دوسرا امر نہیں ہوتا۔ پھلوں کو کھا کر سیری ہوتی اور پانی پی کر فی الواقعہ پیاس دور ہوتی ہے۔ لیکن جب اُٹھتا ہے تو نہ اُن پھلوں کا کویء وجود ہوتا ہے اور نہ اس پانی کا۔ اسی طرح پر جیسے اس حالت میں اﷲ تعالیٰ ان اشیاء کا ایک وجود پیدا کر دیتا ہے۔ عالم آخرت میں بھی ایمان اور اعمال صالحہ کو اس صورت میں متمثل کر دیا جائے گا۔ اسی لیے فرمایا ہے۔
ھزاالذی رزقنا من قبل واتو ا بہ متشا بھا۔ (البقرۃ : ۲۶)
اس کے اگر یہ معنے کریں کہ وہ جنتی جب ان پھلوں اور میووں کو کھائیں گے تو یہ کہیںگے کہ یہ پھل اور خربوزے یا تربوز یا انار ہیں جو ہم نے دنیا میں کھائے تھے تویہ ٹھیک نہیں کیونکہ اس طرح پر تووہ لذت بخش ثیز نہیں ہو سکتے اور نعماء جنت کی حقارت ہے۔ اگر کوئی شخص مثلاً کشمیر میں جاوے اور وہاں کی ناشپاتیاں کھا کر کہے کہ یہ تو وہی ناشپاتیاں ہیں جو پنجاب میں کھائی تھیں تو صریح ان ناشپاتیوں کی حقارت ہے۔ پس اگر بہشت کی نعماء کی بھی یہی مثال ہے تو یہ خوشی نہیں بلکہ اُن سے بیزاری ہے۔ اس لیے اس کا یہ مفہوم اور مطلب نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ بہشتی لوگ جو اس دنیا میں برے عابد اور زاہر تھے جب وہ اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کے