یعنی ان کو کہدو کہ ایسا معجزہ اﷲ تعالیٰ کے قول کے خلاف ہے اور وہ اس سے پاک ہے کہ اپین پہلے قول کے خلاف کرے۔ غرض یہ کس قدر موٹی باتیں ہیں جو ال تعالیٰ نے بار بار پیش کی ہیں۔ مگر تعجب اور افسوس کا مقام ہے کہ یہ ان کو سمجھتے نہیں اور خواہ مخواہ حضرت مسیح میں ایسی خصوصیت پیدا کرنا چاہتے ہیں جو دوسروں میں نہیں ہے۔ قرآن شریف کی یہ تعلیم اور بخاری اور مسلم کو دیکھو اور صحاح کو پڑھو وہاں آنحضرت ﷺ کی رؤیت موجود ہے۔ آپﷺ نے حضرت مسیح کو یحییٰ کے ساتھ دیکھا ویسے ہی حضرت مسیح کو اس وقت ان میں کوئی خاص بات نہ تھی جو بطور جسم کے الگ ہو۔ یعنی ان کا تو جسم ہو اور حضرت یحییٰ کی مجرو روح ہو۔ جب قرآن اور آنحضرت ﷺ کی صریح شہادت موجود ہے پھ ریہ نرالا جسم کیسا؟ اگر نرالا نہیں تو بسم اﷲ ہم ایمان لاتے ہیں کہ وہ جسم جو مرنے کے بعد دیا جاتا ہے وہ مسیح کو بھی دیا گیا۔ پھر نزاع لفظی نکلی۔ یہ ہم کبھی تسلیم نہیں کرسکتے کہ مسیح کو کوئی الگ جسم دیا جاوے کیونکہ یہ شرک ہے۔ ہم جسم کے قائل ہیں لیکن اس جسم عنصری کے قائم نہیں۔ انجیل سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جلالی جسم تھا اور ایسا جسم مرنے کے بعد ملتا ہے۔ ہمارا مذہب یہی ہیکہ بہشت میں بھی جسم ہوں گے۔ نعماء بہشت کی حقیقت لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ جو لکھ اہے کہ بہشت میں دودھ اور شہد کی نہریں ہوں گی یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہاں گایوں کا ایک گلہ ہوگ اور بہت سارے گوالے ہوں گے جو دودھ دوہ دوہ کر ایک نہر میں ڈالتے رہیں گے یا بہت سے ثھتے سہد کی مکھیوں کے ہوں گے او ر پھر ان کا شہد جمع کر کے نہدوں میں گرایا جاوے گا۔ یہ مطلب نہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے جو مجھ پر ظاہر کیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ بات نہ ہوگی۔ اگر یہی خربوزہ اور تربوز یا انار ہوں گے تو پھر یہ بات ہی کیا ہوئی؟ کافر بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے یہاں اس دنیا میں کھا لیے۔ تم نے آگے جا کر کھائے۔ اس کی حقیقت جو اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر کھولی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن شریف میں فرمایا ہے۔ وبشر الذین امنو اوعملو الصالحات ان لہم جنت تجری من تحتھا الانھار (البقرۃ : ۲۶) یعنی جو لوگ ایمان لاتے اور اچھے عمل بجالاتے ہیں وہ ان باغوں کے وارث ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس آیت میں اﷲ تعالیا نے ایمان کو باگ کے ساتھ مسابہت دی جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ اس آیت میں بہست کی حقیقت اﷲ تعالیٰ نے بتائی ہے۔ گویا جو رستہ نہروں کو باگ کے ساتھ ہے۔ وہی تعلق اور رسشتہ اعمال کا ایمان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور جس طرح پر کوئی باغ یا درخت بغیر پانی کے سر سبز نہیں رہ سکتا اسی طرح پر کوئی ایمان