کی غلطیوں اور خود تراشیدہ خیالات کو کیسے مان لیں۔ یہ خوب یاد رہے کہ ہم حضرت عیسیٰ ؑکو آسمان پر روح بلا جسم ہرگز نہیں مانتے۔ ہم مانتے ہیں کہ وہ وہاں جسم ہی کے ساتھ ہی ہیں۔ ہاں فرق اتنا ہے کہ یہ لوگ جسم عنصری کہتے ہیں اور میں کہت اہوں کہ وہ جسم وہی ہے جو دوسرے رسولوں کو دیا گیا ہے۔دوزخیوں کے متعلق اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے لا تفتح لھم ابواب السماء (الاعراف : ۴۱) یعنی کافروں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاویں گے اور مومنون کے لیے فرماتا ہے۔ مفتحۃ لھم الابواب (ص : ۵۱) اب ان آیات میں لہم کا لفظ اجسام کو چاہتا ہے تو کیا یہ سب کے سب پھر اسی جسم عنصری کے ساتھ جاتے ہیں؟ نہیں۔ایسا نہیں۔ جسم تو ہوتے ہیں مگر وہ وہ جسم ہیں جو مرنے کے بعد دیئے جاتے ہیں۔ ایسا ہی فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی (الفجر : ۳۰۔۳۱) بھی اجسام کو چاہتا ہے۔ پھر تیسری شہادت آنحضرت ﷺکی رؤیت ہے۔معراج میں آپؐ نے حضرت عیسیٰ ؑ کا ہو اور باقی بنیوں کی روحیں تھیں اور مسیح ہی کا جسم تھا۔ سچی اور بالکل سچی اور صاف بات یہی ہے کہ اجسام ضرور ملتے ہیں لیکن یہ عنصری اجسام یہان ہی رہ جاتے ہیں یہ اوپر نہیں جاسکتے۔ جیسا کہ آنحصرت ﷺ نے کفار کے جواب میں فرمایا : قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرارسولا (بنی اسرائیل : ۹۴) یعنی ان کو کہدے میرا رب اس سے پاک ہے جو اپنے وعدوں کے خلاف کرے جو وہ پہیلے کر چکا ہے میں تو صرف ایک بسر رسول ہوں۔ سبحان کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ سابق جو وعدے ہو چکے ہیں ان کی خلاف ورزی وہ نہیں کرتا۔ وہ وعدہ کیا ہے؟ ولکم ھی الارض مستقر ومتاع الٰی حین (البقرۃ : ۳۷) اور ایسا ہی فرمایا الم نجعل الارض کفاتا (المرسلات : ۲۶) اور پھر فیھا تحیون و فیھا تموتون (الاعراف : ۲۶) ان سب آیتوں پر اگر یکجائی نظر کی جاوے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ جسم جو کھانے پینے کا محتاج ہے آسمان پر نہیں جاتا۔ پھر ہم دوسرے نبیوں سے بڑھ کر مسیح میں یہ خصوصیت کیونکر تسلیم کر لیں۔ آنحضرت ﷺ سے کفار نے سرارت سے یہی سوال کیا تھا کہ آپﷺ آسمان پر چرھ جائیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پہلے وہ آیات سن ثکے تھے جس میں اس مار کی نھی کی گئی تھی۔ انہوں نے سوچا کہ اگر اب اقرار کریں تو اعتراض کا موقعہ ملے۔ لیکن وہ تو اﷲ تعالیٰ کاکلام تھا۔ اس میں اختلاف نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لیے ان کو یہی جواب ملا قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرارسولا (بنی اسرائیل : ۹۴)