ولا تسئم من الناس۔ یعنی ہم لوگوں کے دل میں وحی کر دیں گے اور وہ تیری مدد کریں گے بڑے بڑے دور دراز راہوں سے تیرے پاس لوگ آئیں گے تم خلق کے ہجوم سے جو تیرے گرد جمع ہوگی۔تنگ مت آنا اور لوگوں سے تھکنا مت۔یہ ایسے وقت کی باتیں ہیں جب میں بالکل گمنام تھا۔اور کوئی آدمی میرے ساتھ نہ تھا۔میرے گائوں سے باہر کوئی بھی مجھے جانتا نہ تھا اور کوئی انسان اس بات پر یقین نہیں لا سکتا تھا کہ ایسی کشش لوگوں کو ہوگی کہ وہ قادیان جیسی گمنام بستی میں دور دراز سے کھنچے چلے آئین گے سو ہم دیکھ رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے کلمات کس طرح صفائی سے پورے ہو رہے ہیں۔ایسے ایسے علاقوں سے لوگ آتے ہیں کہ جہاں ہمارے وہم و گمان میں بھی ہماری تبلیغ کا نام و نشان نہیں ہوتا اور اس عقیدت اور اخلاص سے آتے ہیں کہ ہم کو اُن کے اخلاص و عقیدت پر رشک آتا ہے۔ اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے مجھ کو فرمایا ہوا ہے کہ اذا جاء نصر اﷲ والفتح وانتھی امر الزمان الینا۔ألیس ھذا بالحق۔ یعنی عنقریب ایک زمانہ آنیوالا ہے کہ تجھے اﷲ تعالیٰ نصرت اور فتح دیگا اور ہماری طرف زمانہ کا امر انتہا پاوے گا تو ا سوقت کہا جاوے گا کیا یہ سچ نہیں؟ یعنی اس سلسلہ کی صداقت پر زمانہ گواہی دے اُٹھے گا۔ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ لوگ تیری ترقی کے روکنے کی کوشش کریں گے لیکن ہم تیری مدد کریں گے اور دشمن تیری راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالیں گے مگر ہم اُن کو دور کریں گے اور وہ تیرے نابود کرنے کے منصوبے کریں گے۔سو ہم دیکھتے ہیں کہ چوبیس برس کی پیشگوئیاں پوری ہو رہی ہیں۔ہر ایک شخص جو ہمارے پاس آتا ہے وہ اس پیشگوئی کو پورا کرتا ہے۔ ہمارا سارا دار و مدار دعا پر ہے ہمارا تو سارا دار و مدار ہی دعا پر ہے۔دعا ہی ایک ہتھیار ہے جس سے مومن ہر کام میں فتح پاسکتا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے مومن کو دعا کرنے کی تاکید فرمائی ہے بلکہ وہ دعا کا منتظر رہتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ ہماری دعائوں کو خاص فضل سے قبول فرماتا ہے۔دعا سے انسان ہر ایک بلا اور مرض سے بچ جاتا ہے۔ہم نے ایک دفعہ ایک اخبار پڑھا تھا کہ ایک تھا نیدار کے ناخن میں پنسل کا ایک ٹکڑا کسی طرح سے چبھ گیا۔پنسل میں کچھ زہر بھی ہوتا ہے۔تھوڑی دیر میں اس کے ہاتھ میں ورم ہونا شروع ہو گیا۔بڑھتے بڑھتے ورم اس قدر بڑھ گیا کہ کہنی تک جا پہنچا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا سہ چند بوجھ ہو گیا۔فوراً ڈاکٹر کو بلا یا گیا۔ڈاکٹر نے کہا کہ اس بازو میں زہر اثر کر گیا ہے۔تم اگر اس کو کٹانے پر راضی ہو تو جان بچ جائے گی؛ ورنہ نہیں۔وہ تھانیدار کٹانے پر راضی نہ ہوا۔اس کے بعد تھوڑے ہی عرصہ میں وہ مر گیا ہمارے بھی ایک دفعہ اسی طرح ناخن میں پنسل لگ گئی۔ہم سیر کرنے گئے تو دیھکا کہ ہمارے ہاتھ میں بھی ورم ہونا شروع