سے ڈرتے ہیں ان کو دو جنت ملتے ہیں۔ ہمار نزدیک ا سکی حقیقت یہ ہے کہ ایک جنت تو وہ ہے جو مرنے کے بعد ملتی ہے۔ دوسری جنت اسی دنیا میں عطا ہوتی ہے اور ہی جنت کے ملنے اور عطا ہوین پر بطور گواہ واقعہ ٹھہر جاتی ہے۔ ایسا مومن دنای میں بہت سے دوزخوں سے رہائی پاتا ہے۔ مختلف قسم کی بد اخلاقیاں یہ بھی دوزخ ہی ہیں۔ جن چیزوں سے شدید تعلق ہو جات ہے۔ وہ بھی ایک قسم کا دوزخ ہی ہے۔ کیونکہ پھ ان کو چھوڑ نے سے تکلیف ہوتی ہے۔ مثلاً مال سے محبت ہو اور اسے چور لے جائیں تو اُسے سخت تکلیھ ہوتی ہے۔ یہانتک کہ بعض اوقات ایسے لوگ مر ہی جاتے ہیں یا ان کی زبان بند ہو جاتی ہے۔ اسی طرح پر اور جن فانی اشیاء سے محبت ہے وہ اگر تلف ہو جائیں یا مرجاویں تو اُس کو سخت رنج اور صدمہ ہوتا ہے۔
مثنوی میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک سخص کا ایک دوست مرگیا۔ جس کے غم میں وہ رو رہا تھا۔ اس سے پوچھا گیا تو کیوں روتا ہے تو اس نے کہا کہ میرا ایک نہایت ہی عزیز مر گیا ۔ا س نے کہا کہ تُو نے مرنے والے سے دوستی ہی کیوں کی؟
اصل بات یہ ہے کہ مفارقت تو ضروری ہے اور جدائی ضروری ہوگی۔ یا یہ خود جائے گا یا وہ جس سے دوستی اور محبت کی ہے۔ پس وہ مفارڈت عذاب کا موجب ہو جائے گی۔ لیکن جو لوگ اﷲ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرتے ہیں اور ان فانی اشیاء کے دلدادہ اور گرویدہ نہیں ہوتے وہ اس عذاب سے بچا لیے جاتے ہیں۔ کسی نے کای اچھا کہا ہے ؎
دشت دنیا جز ددو جز دام نیست
جز بخلوت گاہ حق آرام نیست
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کی حقیقت
اﷲ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ہمارا اصل منشا اور آنے کی غرض یہ نہیں کہ عیسیٰ فوت ہو گیا۔ یہ تو ایک سچائی تھی جو ہم نے پیش کی۔ ال تعالیٰ نے ہم پر یہی طاہر کیا۔ ہم نے اسی طرح اس کو دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ ہمیں حضرت عیسیٰ کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں رہ بھی اﷲ تعالیٰ کے ایک رسول اور پیغمبر ہیں۔ یہ کہت یہیں کہ وہ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر نہیں گئے ہم کو اُن کی تذلیل منظور نہیں مگر ہم کیا کریں۔ اصل بات ہی یہ ہے ۔ جوامرم ہم کسی نبی اور رسول کے لیے نہیں مانتے ۔ہم کیونکر ان کے ساتھ اسے مختص کریں۔ ہاں ہم کو بخل نہیں۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ جس جسم کے ساتھ دوسرے پیغمبر آسمان پر گئے ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑبھی اسی جسم کے ساتھ گئے ہیں۔مگر ان لوگوں