بے ہودہ امر ہے۔ اﷲ تعالیٰ تو صاف فرماتا ہے۔ لا تدر کہ الابصار (الانعام : ۱۰۴) وجودیوں کا یہ مذہب ہے کہ ہم ہی لا الہ الا اﷲ پڑھتے ہیں اور ہم ہی سچے موحد ہیں۔ باقی سب مشرک ہیں۔ اس کا نتیجہ عوام میں یہ ہوا کہ اباحت پھیل گئی اور فسق و فجود میں ترقی ہو گئی، کیونکہ وہ اسے حرام نہیں سمجھتے اور نماز روزہ اور دوسرے اوامر کو ضروری نہیں سمجھتے۔ اس سے اسلام پر بہت بڑی آفت آئی ہے۔ میرے نزدیک وجودیوں اور دہریوں میں انیس اور بیس کا فرق ہے۔ یہ وجودی سخت قابل نفرت اور قابل کراہت ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ جس قدر گدیاں ہیں ان میں سے شاید ایک بھی ایسی نہیں ہوگی جو یہ مزہب نہ رکھتی ہو۔ سب س یزیادہ افسوس یہ ہے کہ سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ کا فرقہ جو قادری کہلاتا ہے وہ بھی وجودی ہو گئے ہیں؛ حالانکہ سید عبد القادر جیلانیؓ وجودی نہ تھے۔ ان کا طرز عمل اور ان کی تصنیفات اھدنا الصراط المستقیم کی عملی تصدیق دکھاتی ہیں۔ علماء صرف یہ سمجھتے ہیں کہ اھدنا الصراط المستقیم صرف پرھنے کے لیے ہے، لیکن اس کے اثرات ارو نتائج کچھ نہیں۔ مگر وہ عملی طو رپر دکھاتے ہیں کہ ان منعم علیہ لوگوں کے نمونے اس امت میں ہوئے ہیں۔ غرض یہ ال تعالیٰ کا فضل ہے کہ گو ایسے لوگ تھوڑے ہوتے ہیں۔ لیکن ہیں ضرور جو خدا تعالیٰ سے کامل محبت کرتے ہیں اور اسی دنیا میں رہ کر انقطاع اور سفر آخرت کی تیاری کرتے ہیں۔ یہ امور ایسے ہی لوگوں کے حصہ میں آئے ہیں۔ جیسے سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ ۔مگر اب برخلاف ان کے وجودیوں کی کثرت ہے اور اسی وجہ سے فسق وفجور میں ترقی ہے۔ اس دنیا میں معرفت اور بصیرت حاصل کرنے کا نسخہ قرآن سریف کی تعلیم کا خلاصہ مغز کے طور پر یہی بتایا ہیکہ خد اتعالیٰ کی محبت اس قدر استیلاء کرے کہ ماسوی اﷲ جل جاوے۔ یہی وہ عمل ہے جس سے گناہ جلتے ہیںاور یہی وہ نسخہ ہے جو اسی عالم میں انسنا کو وہ حواس اور بصیرت عطا کرتا ہے جس سے وہ اُس عالم کی برکات اور فیوض کو اس عالم میں پاتا ہے اور معرفت اور بصیرت کے ساتھ یہاں سے رخصت ہوت اہے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو اس زمرہ سے الگ ہیں۔ من کان فی ھذہ اعمی ھھو فی الاخرۃ اعمی (بنی اسرائیل : ۷۳) اور ایسے ہی لوگوں کے لیے فرمایا ہے۔ ولمن خاف مقام ربہ جنتان (الرحمٰن : ۴۷) یعنی جو لوگ اﷲ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہونے