لیکن مولویوں کے نام سے جو لوگ گذرے ہیں وہ عموماً مامحجوب رہے ہین۔ بہت ہی کم جو دراصل وہ بھی فقیر تھے۔ وہ تو اس حجاب سے بچے ہیں ورنہ اہل تصوف سے عموماً الگ رہے ہیں اور ایسے پاکباز لوگوں پر کفر ہی کے فتوے دیتے رہے جو دنیا سے انقطاع کرنے والے تھے۔ صوفی تو ایسے ہیں جیسے ہر وقت کوئی مرنے کو تیار رہتا ہے۔ ان کی کتابوں کو پرھ کر طبیعت خوش ہو اجتی ہے۔ ان سے خوشبو آتی ہے کہ وہ صاحب حال ہیں صاحب قال نہیں۔ اگر فراست صحیحہ ہو تو انسان ان باتوں کو سمجھ لیتا ہے۔ سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ کی کتاب ھتوح الغیب بڑی ہی عمدہ کتاب ہے۔ مین نے اس کو کئی مرتبہ پڑھا ہے۔ بدعات سے پاک ہے۔ بعض کتابیں صوفیوں کی اس قسم کی بھی ہین کہ ان میں بدعات بھی داخل ہو گئی ہیں لیکن یہ کتاب بہت ہی عمدہ ہے۔
وحدت وجودی کا فتنہ
فقیروں میں بھی ایک آفت پڑی ہے ۔یعنی بعض فقیر تو ہوئے مگر وحدت وجودی ہو گئے اور خود ہی خدا بن بیٹھے ۔ ہمارے ملک میں دو آبہ (بست جالندہر) میں اکثر وجودی ہیں۔ اور جو وجودی کہلاتے ہیں ان کا مذہب عموماً اباحتی دیکھ اگیا ہے۔ اور حقیقت میں اس مذہب کا خاصہ اور اثر ہوان بھی یہی چاہیے کیونکہ جو شخص اﷲ تعالیٰ کو ان صفات سے متصف نہیں مانتاجو قرآن شریف میں بیان ہوئی ہیں اور اپنے اور خدا تعالیٰ میں کوئی فرق نہیں کرتا بلکہ خود ہی خدا بنتا ہے۔ وہ اگر اباحتی نہ ہو تو اور کیا ہو۔ زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ وگ دوزخ اور بہشت پر ایمان بھی لاتے ہیں اور ایمان لا کر بھی سمجھتے ہیں کہ ہم ہی خدا ہیں۔ اور ایک اور بری غلطی ہے جس مین یہ لوگ مبتلا ہیں اور وہ یہ ہے کہ اپنے مذہب کو اکابر سے منسوب کرتے ہیں۔
وحدت شہودی
اصل یہ ہے کہ مزہب دوہیں۔ وجودی اور شہودی۔ وجودیوں نے فلسفیوں کی طرح یہ سمجھ لیا ہے کہا نسان کے سوا خد اکچھ نہیں ہے یا خد اکے سوا اور کچھ نہیں ۔ مگر شہودی ا سکے سوا ہیں اور وہ ٹھیک ہیں۔ جنہوں نے استیلاء محبت اور تجلیات صفات الٰہی سے الیسا معلوم کیا کہ خد اہے۔ انہوں نے اس کی ہستی اور وجود کے سامنے اپنی ہستی اور وجود کی نفی کرلی۔ اور من تو شدم تو من شدی، کے مصداق ہوئے۔ حقیقت میں محبت کے ثمرات میں سے نفی وجود ضروری ہے۔ اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ بلکہ قرآن شریف سے یہ صحیح معلوم ہوت اہے۔ یہی وہ مقام ہے جو فنا ھی اﷲ کہلاتا ہے۔ لیکن وجودیوں کا یہ حال نہیں۔ ان کا تو یہ حال ہے کہ گویا انہوں نے ڈاکٹروں کی طرح تشریح کرکے خدا تعالیٰ کو دیکھ لیا ہے۔ تب ہی تویہ خدو بیھ خد ابنتے ہیں؛ حالانکہ یہ صریح غلط اور