اور غافل نہ ہونا چاہیے ورنہ عذاب ہوگا۔ یہ بالکل صاف بات ہے کہ جو شخص ہر وقت سفر کی تیاری میں ہے اور کمر بستہ بیٹھا ہے۔ اگر یکا یک اُسے سفر کرنا پڑے تو اُسے کوئی تکلیف اور گھبراہت نہ ہوگی۔ لیکن اگر اس نے کبھی یہ خیال بھی نہیں کیا تو پھرایسے موقعہ پر سخت گھبراہٹ کاسامنا ہوگا۔ ایک شاعر نے کیا اچھا کہا ہے ؎
ولم یتفق حتی مضی فی سبیلہ
وکم حسرات فی بطون المقابر
یعنی اس وقت تک اس امر سے اتفاق نہ کیا یہاں تک کہ کوچ کرنا پڑا۔ تب اقرار کیا کہ بہت ساری حسرتیں قبروں میں دفن کی گئی ہیں۔
مگر یہ بات اﷲ تعالیٰ کے فضل کے بغیر میسر نہیں ہو سکتی کہ انسان غفلت کی زندگی چھوڑ کر عالم آخرت کی تیاری میں لگا رہے ۔سننے کو تو ہر ایک کان سن سکت اہے کیونکہ سننا سہل ہے مگر عمل کرنے کے لیے مشکل پڑتی ہے۔انسان کی عادت میں داخل ہے کہ جبتک ایک مجلس میں بیٹھا ہے۔ اس مجلس کی باتوں سے متاثر ہوت اہے لیکن جب وہان سے اُٹھتا ہے اور مجلس منتشر ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ہی وہ باتیں بھی بھول جاتی ہیں گویا وہ وہیں کے لیے تھیں۔ ایسے لوگ سخت نقصان اُٹھاتے ہیں اور دفعۃً موت کے آجانے پر انہیں بہت کچھ حسرت اور افسوس کرنا پڑتا ہے۔ موت انہیں کی اچھی ہوتی ہے جو مرنے کے لیے ہر وقت آمادہ رہتے ہیں۔
ھرید الدین عطا رحمۃ اﷲ علیہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ عطاری کی دوکان کیا کرتے تھے۔ ایک دن صبح ہی صبح جب آکر انہوں نے دوکان کھولی توایک فقیر نے آکر سوال کیا۔ فرید الدین نے اس سائل کو کہا کہ ابھی بوہنی نہیں کی۔ فقیر نے ان کو کہا کہ اگر تو ایسا ہی دنیا کے دھندوں میں مشغول ہے تو تیری جان کیسے نکلے گی۔ فرید الدین نے اس کو جاب دیا کہ جیسے تیری نکلے گی۔فقیر یہ یہ سنکر وہیں لیٹ گیا اور کہا لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ۔ اور اس کے ساتھ ہی جان نکل گئی۔ فرید الدین نے جب اس کی یہ حالت دیکھو تو بہت متاثر ہوا۔ا سی وقت ساری دکان لٹادی اور ساری عمر یاد الٰہی میں گذاردی۔ یہ تیاری ہوتی ہے۔ تیاری میں رنج نہیں ہوتا۔ کش مکش ہو تو پھر رنج اور افسوس ہوتا ہے۔
صوفیاء اور مولوی فرمایا :
صوفیوں کی جو کتابیں ہیں ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ انہیں موت کا خیال دامنگیررہا ہے