ہیں۔ اسی طرح پر مرنے والا موت کے بعد اپنے آپ کو معاً دوسرے عالم میں دیکھتا ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ جب موت آتی ہے تو وہ شخت جس نے اپنی عمر عزیز کو دنیا کے حصول میں ہی ضائع کر دیا اور اﷲ تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا نہیں کیا تھا۔ وہ چونکہ ابھی بہت سے کاموں کو نا تمام اور ادھورا پاتا ہے۔ اس لیے اس پر حسرت اور افسوس کا استیلاء ہوجاتا ہے اور وہ موت اسے تلخ گھونٹ معلوم ہوتی ہے۔ اس سے صاف پایا جات ہے کہ انسان دلبستگی پید انہ کرے اور اپنے اوقات کو ضائع نہ کرے۔ ہر لحظہ کو غنیمت سمجھ کر اور یقین کر کے کہ شاید ابھی موت آجاوے مرنے کے واسطے تیار رہنا چاہیے۔ جب اس تیاری کی فکر و امنگیر رہے گی تو اس کا اثر یہ ہوگاکہ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ انسان اپنے تعلقات کو بڑھائے گا اور اس دوسرے جہان میں آرام پانے کا خیال کرے گا۔ یہ خوب یاد رکھو کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ جیسے زمیندار اپنی فصل کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے لیے ہر قسم کے دکھ اور تکالیف اُٹھاتا ہے۔ اسی طرح پر مومن کو اس کی حفاظت کے لیے کرنا چاہیے۔ تاکہ دوسرے جہاں میں آرام پاوے۔ اگر اب بے پروائی کرے گا اور وہ وقت کی قدر نہیں کرے گا تو پھر اس کو اس وقت سخت افسوس اور حسرت ہوگی۔ جب اس جہان سے رخصت ہو کر دوسرے عالم میں جانا پڑے گا اور وہاں اس کے لیے بجز دکھ اور درد کے اور کای ہوگا؟ اس دنیا میں وہ اس دنیا کے ہم و غم میں مبتلا رہا اور اُس عالم میں اس ہم و غم کے نتائج ہیں۔ موت کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے جو شخص اس عالم کے ہم و غم میں مبتلا ہو رہا ہے اور دوسرے عالم کا اسے کوئی فکر بھی نہیں۔ اگر اسے یکدفعہ ہی پیغام موت آجوا یتو خیال کرو اس کا کیا حال ہوگا؟ موت تو ایک بازی گاہ ہے ہمیشہ ناگاہ آتی ہے اور جسے آتی ہے وہ یہی سمجھتا ہے کہ میں تو قبل از وقت جاتا ہوں۔ ایسا خیال اسے کیوں پیدا ہوتا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ چونکہ خیالات اور طرف لگے ہوئے تھے اور وہ اس کے یے تیار نہ تھا۔ اگر تیاری ہو تو قبل از وقت نہ سمجھے بلکہ ہر وقت اسے قریب اور دروازہ پر یقین کرے۔ اس لیے تمام راستبازوں نے یہی تعلیم دی ہے کہ انسان ہر وقت اپنا محاسبہ کرتا رہے اور آزماتا رہے کہ اگر اس وقت موت آجواے تو کیا وہ تیار ہے یا نہیں؟ حافظؔ نے کیا اچھا کہا ہے ؎ چو کار عمر ناپیدا است بارے آن اولیٰ کہ روز واقعہ پیش نگار خود باشیم ان کا مطلب یہی ہیکہ ہر وقت تیار اور مستعد رہنا چاہیے۔ اور کسی وقت بھی اس تیاری سے بے فکر