اندر ہی اندر تسلی اور اطمینان پاتا ہے وہ اپنے قلب میں تلخی اور عذاب کو محسوس نہیں کرتا۔ نہایت کار اس مصیبت کا انجام یہ ہو سکتا ہے کہ اگر تقدیر مبرم ہے تو موت آجاوے۔ لیکن اس سے کیا ہوا؟ دنیا کوئی ایسی جگہ تو ہے ہی نہیں جہاں کوئی ہمیشہ رہ سکے۔ آخر ایک دن اور وقت سب پر آتا ہے کہ اس دنیا کو چھوڑنا پڑے گا۔ پھر اگر اُسے موت آگئی تو ہرج کیا ہوا؟مومن کے لیے تو موت اور بھی راحت رساں اور وصال یار کا ذریعہ ہو جاتی ہے۔ اس لیے کہ وہ اﷲتعالیٰ پر کامل ایمان اور اس کی قدرتوں پر بھروسہ کرتا ہے اور جانتا ہے کہ اگلا جہان اس کے لیے ابدی راحت کا ہے۔ پس نری مصیبت خواہ بیماری کی ہو یا کسی اور قسم کی تکلیھ عذاب کا موجب نہیں ہو سکتی بلکہ وہمصیبت دکھ دینے والا عذاب ٹھہرتی ہے جس میں اﷲ تعالیٰ پر ایمان اور بھروسہ نہ ہو۔ایسے شخص کو البتہ سخت عذات ہوت اہے اور اگر کوئی یہ خیال کرے کہ موت ہی نہ آوے تو یہ خیال خام ہے کیونکہ ال تعالیٰ نے اس دنای کو نا پائدار قرار دیا ہے۔ ایسے شخص کے لیے دوسرے جہان میں دسخت درد ناک جہنم ہوگا جس کے لیے اسے تیار رہنا چاہیے۔
موت کی حقیقت
موت آنے والی ہے اس سے کسی کو چارہ نہیں۔ یقینا سمجھو کہ اس پیالہ کے پینے س یکوئی نہیں بچ سکتا۔ خدا تعالیٰ کے تمام برگزیدہ بندوں اور انبیاء و رسل کو بیھ اس راہ سے گذرنا پڑا تواور کون ہے جو بچ اجوے۔ حکیم اور ھلا سفر جو سخت دل ہوتے ہیں ا۲ن کو بھی یہ بات سوجھ گئی ہے اور انہوں نے اعتراف کیا بلکہ موت کو ضروری سمجھ اہے۔ اُنہوں نے دیھک اکہ زمین تو ربع مسکون ہے اور اس میں بہت ہی تھوڑا حصہ آباد ہے۔ اگر وہ تمام لوگ جو ابتدائے آفرینس سے پیدا ہوئے اب تک زندہ رہتے تو ان کے رہنے کو کوئی جگہ اور مقام نہ ملت ا۔ یہانتک کہ وہ کھڑے بھی نہ ہو سکتے۔ پس اس قدر کثرت خود ثاہتی ہے کہ موت ہوت اکہ پہلے چلے جاویں تو دوسروں کے لیے جگہ ہو۔موت کو یہ ہرگز نہیں مسجھنا چاہیئے کہ مر کر انسان بالکل گم ہو جاتا ہے نہیں بلکہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک کوٹھڑی سے نکل کر انسان دوسری کوٹھڑی میں چلا جاتا ہے۔ اس کی حقیقت کسی قدر خواب سے سمجھ میں آسکتی ہے کیونکہ خواب بھی گویا، ہمشیرۂ موت ہے۔ خواب میں بھی ایک قسم کا قبض روح ہی ہوتاہے۔ دوسورں کے خیال میں جو سونے والے کے پاس بیٹھے ہیں وہ بالکل بے خبری اور محویت کے عالم میں ہیں۔ لیکن خواب دیکھنے والا معاً دوسرے عالم میں ہوتا ہے۔ اور وہ سیاحت کر رہا ہوتا ہے۔ اب بظاہر اس کے حواس اور قویٰ سب معطل ہوتے ہیں۔ لیکن سونے والا اور خواب دیکھنے والا خوب جانتا ہے کہ اس کے حواس اور قویٰ سب کام میں لگے ہوئے