کر سکتے۔ ان کے دل کمزور ہو جاتے ہیں۔لیکن برخلاف اس کے مومن قوی دل ہوت اہے۔ اس لیے کہ اس کا بھروسہ خد اتعالیٰ پر ہوتا ہے۔ اس پر اگر مصائب آئیں تو وہ اس کو پست ہمت نہیں بناتیں بلکہ وہ مصائب میں اور بھی قدم آگے بڑھاتا ہے۔ اس کا ایمان پہلے سے اور زیادہ مضبوط ہوتا ہے اور سچ پوچھو تو ایمان کا مزہ اور لذت انہیں دنوں میں آتی ہے اور ایمان انہیں ایام کے لیے ہوتا ہے۔ صحت کی حالت میں جبکہ نہ کوئی مالی غم ہو نہ جانی بلکہ ہر قسم کی آسائش اور امن ہو اس وقت کافر اور غیر کاھر کی حالت یکسان ہو سکتی ہے لیکن مصیبت اور بیماری اور دوسری مشکلات میں ان باتوں کا امتحان ہو جاتا ہے اور ثابت ہو جاتا ہے کہ کون اﷲ تعالیٰ سے قوی تعلق رکھتا ہے اور اس کی قدرتوں پر ایمان لاتا ہے اور کون اس کا شکوہ کرتا ہے اور اس سے ناراض ہوتا ہے۔ ایمان کا کامل معیار مصیبت اور دکھ ایمان کا ایک کامل معیار ہے اسی سے پہچانا جاتا ہے کہ کون صبر کتا ہے۔ صبر کیا یہ؟ یہ بھی ایمان ہی کا نتیجہ ہے۔ مصیبتوں میں جب مومن صبر کرتا ہے تو یہ صبر بھی ایک نئے رنگ کا صبر معلوم ہوتا ہے کہ کافر اس صبر میں مشابہت نہیں رکھتا ۔ اس کے علاوہ خدا تعالیٰ کا معاملہ بھی ایک نئے رنگ کا معاملہ ہوت اہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ایک نیا خدا معلوم ہوتا ہے۔اس لیے کہ اس پر ایمان لا کر معرفت میںترقی ہوتی ہے۔ جب مشکلات اور مصائب کی وجہ س یمومن دعائیں کرتا ہے تو دو فائدے ہوتے ہیں ایک تو وہ مصائب بجائے خود اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتے ہیں۔ دوسرے ان دعائوں کے ذریعہ ان سے نجات بھی ملتی ہے اور اﷲ تعالیا پر اور اس کی قدرتوں پر ایمان بڑھتا ہے۔ مصیبت سے انسان کی زندگی کبھی خالی نہیں رہ سکتی۔ کسی نہ کسی رنگ میں کوئی نہ کوئی مصیبت انسان پر آہی جاتی ہے۔ خاوہ بیماری کے رنگ میں ہو خواہ زعت و آبرو کے متعلق ہو یا مال واسباب کی صورت میں ہو۔ لیکن مومن کی مصیبت اس پر سہل ہو جاتی ہے اور اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے۔ وہ اس مصیبت کو اپنے لیے دخا تعالیٰ سے تعالقات بڑھانے کا ایک ذریعہ یقین کرتا ہے اور فی الحقیقت ایسا ہی ہوت اہے مگر وہی مصیبت بے ایمانوں کے لیے عذاب کے رنگ میں ہو جاتی ہے۔ کبھی دوسرے کو مصیبت میں دیکھ کر خوش نہیں ہونا چاہیے ۔کیونکہ وہ تو ایک عبرت کا مقام ہے۔ خدو بھی اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ تسکین دہ ہے یہ بھی یاد رکھو کہ مصیبت کے زخم کے لیے کوئی مرہم ایسا تسکین دہ اور آرام بخش نہیں جیساکہ اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے۔ جو سخص اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ سخت سے سخت مشکلات اور مصائب میں بھی