باتوں ہی باتوں میں حکایتاً عن الغیرذکر کای کہ بعض مسمر یزم کے عامل توجہ سے مرض کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پر بدل دینے کے دعوے کرتے ہیں۔ اس پر فرمایا :
یہ کچھ چیز نہیں۔ میری طبیعت اس سے سخت نفرت کرتی ہے۔ اصل طریق دعا ہے۔ اس سے بہتر اور کوئی راہ نہیں ہے۔ میں تو اس کے سوا دوسرے طریقوں کو ایسا سمجھتا ہوں جیسے قے کے ساتھ کسی بیماری کا علاج کیا جاوے۔ پس کون پسند کرتا ہے کہ قے کے ساتھ علاج ہو۔ سچا اور خدا شناسی کا جو طریق ہے جسے انبیاء علیہم السلام نے استعمال کیا وہ یہی دعا ہے؎ٰ۔
۲۴؍ستمبر ۱۹۰۵ء
(قبل دوپہر)
مومن کا بھروسہ خدا تعالیٰ پر ہوتا ہے
مخدوم ۲؎ الملت کی بیماری کے تذکرہ پر مندرجہ زیل تقریر فرمائی:
اگر انسان کا وجود اﷲ تعالیٰ کے بغیر ہتوا تو کچھ شک نہیں بری مصیبت ہوتی، مگر اب تو ذرہ ذرہ کی حفاظت وہ ایک ذات کر رہی ہے۔ پھ رکس بات کا غم اور خوف ہے۔ اس کی قدرتیں عجیب ہیں اور اس کے تصرفات بے نظیر ۔ قادے خدا کو مان کر مومن کبھی غمگین نہیں ہوتا۔ وہ جو ثاہت اہے کرتا ہے اور جو کچھ کرتا ہے اسی میں خیروبرکت ہوتی ہے۔مومن اور غیر مومن میں ایمان ہی کا تو ھرق ہے۔ دہریہ مزاج اور اﷲ تعالیٰ پر ایمان نہ لانے والے کی زندگی اس وقت تک عمدہ اور بے خوف وخطر ہوتی ہے جبتک اس پر مصائب اور مشکلات کا حملہ نہیں ہوتا۔لیکن جب خفیف سی مشکلات بھی آخر ظاہر ہوتی ہیں تو اس کی ؓقل مار دیتی ہیں اور وہ ان کی برداشت نہیں کر سکتا۔ ا سکی امید اﷲ تعالیٰ پر ہوتی ہی نہیں اور اسباب اُسے مایوس کر دیتے ہیں ۔ایسی حالات میں زرا زرا سی بات خلاف مزاج پیش آجانے پر بعض اوقات یہ لوگ خودکشیاں کر لیتے ہیں۔ یورپ میں جہاں دہریوں کی کثرت ہے وہاں اس قدر خود کشیاں ہوتی ہیں کہ کسی اور ملک میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی کہ وہ و غم اور مصائب کی برداشت نہیں