ہے کہ جب آپؐ ہجرت کرکے نکلے اور غار میں جاکر پوشیدہ ہوئے تو دسمن بھی تلاش کرتے ہوئے وہاں جا پہنچے۔ اُن کی آہٹ پا کر حضرت ابو بکرؓ گھبرائے تو اﷲ تعالیٰ نے وحی کی اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا: لا تحزن ان اﷲ معنا (التوبہ : ۴۰) کہتے ہیں کہ وہ نیچے اُتر کر اس کو دیکھنے بھی گئے۔ مگر خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ غار کے منہ پر مکڑی نے جالا تن دیا تھا۔ اسے دیکھ کر ایک نہ کہا کہ یہ جالا تو (آنحضرت ﷺ کی) پیدائش سے بھی پہلے کا ہے۔ اس لیے وہ واپس چلے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ جو اکثر اکابر عنکبوت سے محبت کرتے آئے ہیں۔ غرض جیسے آنحضرت ﷺ نے باوجود ایک گروہ کثیر کے اس وقت ابو بکرؓ ہی کو ساتھ لینا پسند کیا اسی طرح پر حضرت عیسیٰ ؑ نے صرف تھوما کو ساتھ لے لای اور چلے آئے ۔ پس جب حواری ان کے ساتھ تھے تو پھر کوئی اعتراض نہیں رہتا۔ دوسرا سوال اس پر یہ کرتے ہیں کہ جب کہ وہ ستاسی سال تک زندہ رہے تو ان کی قوم نے ترقی کیوں نہ کی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا ثبوت دینا ہمارے ذمہ نہیں۔ ہم کہتے ہیں ترقی کی ہوگی لیکن حوادث روز گار نے ہلاک کر دیا ہوگا۔ کشمیر میں اکثر زلزلے اور سیلاب آتے رہتے ہیں۔ مدت دراز کے بعد قوم بگڑی گئی ۔لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکت اکہ وہ ایک قوم تھی۔ اوینھما الی ربوۃ ذات قدار ومعین (المومنون : ۵۱) کے متعالق بعض کہتے ہیں کہ وہ شام ہی میں تھا۔ میں کہتاہوں یہ بالکل غلط ہے۔ قرآن شریف خود اس کے مخالف ہے اس لے کہ اویٰ کا لفظ تو اس جگہ استعمال ہوتاہے جہاں ایک مصیبت کے بعد نجات ملے اور پناہ دی جاوے۔ یہ بات اس رومی سلطنت میں رہ کر انہیں کب حاصل ہو سکتی تھی۔ وہ تو وہاں رہ سکتے ہی نہ تھے۔ اس لیے لازمی طور پر انہوں نے ہجرت کی۔ زندگی لائق اعتبار نہیں فرمایا : زندگی اعتبار کے لائق نہیں۔ اس پر مختلف امراض اور خصوصاً طاعون نے اور بھی خوف پیدا کر دیا ہے۔ (قبل نماز عصر) اصل طریق دعا ہے حضرت مخدوم ؎ٰ الملت کی بیماری کا تذکرہ تھا۔ ایک بزرگ نے