ہی لکھاہے۔ اس کے علاوہ تھوما حواری کا ہندو ستان میں آنا ثابت ہے۔ (اس مقام پر مفتی صاحب نے عرض کی کہ مین نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ جب حضرت مریم بیمار ہوئیں تو انہوں نے تھوما سے جو اس وقت ہندوستان میں تھا۔ ملنا چاہا۔ چنانچہ ان کے تابوت کو ہندوستان میں پہنچایا گیا اور وہ تھوما سے مل کر بہت خوش ہوئیں اور اس کو برکت دی اور پھر تھوما نے اس کا جنازہ پڑھا۔ ا س ذکر پر کہا گیا کہ کیا تعجب ہے اگر فی الحقیقت یہ ایک ذریعہ اختیار کیا گیا ہو بیتے کے پاس آنے کا۔ اس کے متعلق مختلف باتیں ہوتی رہیں)۔ فلما توفیتنی پر ایک اعتراض کا جواب مند رجہ بالا سلسلہ میں آپ نے فرمایا کہ: ہم جب مسیح کی موت کے لیے آیت فلما توفیتنی (المائدۃ : ۱۱۸) پیش کرتے ہیں تو اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ مسیح ؑاگر واقعہ صلیب کے بعد کشمیر چلے آئے تھے تو پھر اُن کو بجائے فلما توفیتنی کے یہ کہنا چاہیے تھا کہ جب تونے مجھے کشمیر پہنچادیا۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض ایک سفطہ ہے۔ یہ سچ ہے کہ مسیح ؑ صلیب پر سے زندہ اتر آئے اور موقعہ پ اکر وہ وہاں سے کسمیر کو چلے آئے۔ لیکن اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے مخالفوں کا حال تو پو چھا نہیں۔ وہ تو ان کی اپنی امت کا حال پوچھتا ہے۔ مخالف تو بدستور کا فرکذاب تھے۔ دوسرے یہاں مسیح علیہ السلام نے اپنے جواب میں یہ بھی فرمایا ہے ما دمت فیھم (المائدۃ : ۱۱۸) میں جب تک ان میں تھا۔ یہ نہیں کہا ما دمت فی ارضہم۔ ما دمت فیہم کا لفظ تقاضا کرتا ہے کہ جہاں مسیح جائیں وہاں ان کے حواری بھی جائیں۔ یہ نہیں ہو سکت اکہ خد اتعالیٰ کا ایک مامور و مرسل ایک سخت حادثہ موت سے بچایا جواے اور پھر وہ خد اتعالیٰ کے اذن سے ہجرت کرے اور اس کے پیرو اور حواری اسے بالکل تنہا چھوڑ دیں اور اس کا پیچھا نہ کریں۔ نہیں بلکہ وہ بھی اُن کے پاس یہان آئے۔ ہاں یہ ہو سکتاہے کہ وہ ایک دفعہ ہی سارے نہ آئے ہوں بلکہ متفرق طو رپر آگئے ہوں؛ چنانچہ تھوما کا تو ہندوستان میں آنا ثابت ہی ہے اور خود عیسائیوں نے مان لیا ہے۔ اس قسم کی ہجرت کے لیے خود آنحضرت ﷺ کخی ہجرت نظیر موجود ہے؛ حالانکہ مکہ میں آپؐ کے وفادار اور جاں نثار خدام موجود تھے۔لیکن آپؐ نے ہجرت کی تو صرف حضرت ابو بکر ؓ کو ساتھ لے لیا۔مگر اس کے بعد جب آپ مدینہ پہنچ گئے تو دوسرے اصحاب بھی یکے بعد دیگرے وہیں جا پہنچے۔ لکھا