دنیا سے ان کا نام و نشان مٹ جائے گا اور اُن کے آثار تک باقی نہ رہیں گے، لیکن یہ حالت کبھی قادیان پر وارد نہ ہوگی۔یہ ایک لمبی بیماری ہے عمروں تک چلی جاتی ہے۔بڑے بڑے قطعے اس نے برباد کر کے جنگل کر دیئے۔شہروں کے شہر ویرانے بنادیئے۔سینکڑوں کوس ایسے غیر آباد کئے کہ جانور بھی زندہ نہ رہے۔اس کے آگے تو بڑے بڑے شہر بھی کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔بڑے سے بڑے آباد شہر کو بھی اگر چاہے تو دو تین دن میں صاف کر سکتی ہے۔؎ٰ
۳۱؍مئی ۱۹۰۴ء
تقریر حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام
بمقام گورداسپور-اضری مولوی الٰہی بخش صاحب آمدہ از بنارس
جب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور آتا ہے تو لوگ عموماً اس کی طرف سے بے پرواہی کرتے ہیں اور اکابر اور علماء کو خصوصیت سے اس کی طرف توجہ کرنا عیب سمجھتے ہیں۔مگر اﷲ تعالیٰ غنی ہے اور مرسل اور مامور چونکہ ایک خدمت پر اﷲ تعالیٰ کے حکم سے مقرر ہوتے ہین۔وہ بھی بے پروا ہوتے ہیں اور اپنے آپ کا محتاج نہیں سمجھتے بلکہ جیسے وہ ذات الٰہی کا مظہر ہوتے ہیں۔ایسے ہی اسی ذات سے غنا کا حصہ بھی لیتے ہیں۔ہر ایک شخص جو مامور بن کر دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اس کو ایک خاص قسم کی ہمت اور حوصلہ عطا کیا جاتا ہے۔اور عزم میں ایک بے روک حزم اور استقلال عطا کیا جاتا ہے۔یہ لوگ بڑا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ہم اپنی طرف سے کسی پر اثر نہیں ڈال سکتے۔انسان تو ایک انسان پر اثر نہیں ڈال سکتا۔
یہ محض اﷲ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ ہزار ہا بلکہ لاکھوں آدمیوں کو کھینچے لیے آتا۔یہاں کسی بناوٹ کی کوئی ضرورت نہیں۔چوبیس برس سے زیادہ ہوئے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے الہام کیا تھا کہ
ینصرک رجال نو حی الیھم من السماء۔یا تیک من کل فج عمیق۔یا تون من کل فج عمیق۔
ولا تصعر لخلق اﷲ