نے فرمایا کہ :
وہ اسلام کا سخت مخالف ہے۔ ہر امر میں اس نے حضرت مسیح کو آنحضرت ﷺ پر فضیلت دی ہے۔ پھ ریہ بھی کہتا ہے کہ اسلام اور عیسائیت میں صلح کرانے آیا ہوں۔ یہ کیسی عجیب بات ہے۔ اسلام اور عسیائیت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اور وہ صلح کراتا ہے۔ مجھے اس کتاب میں بہت گالیاں دی ہیں۔
کشمیر میں بنی اسرائیل اور مسیح علیہ السلام کی قبر
مسیح کی قبر واقع کشمیر کا ذکر تھا۔ اس کے متعلق جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ :
بہت سے سواہد اور دلائل س ییہ امر ثابت ہو گیا ہے کہ یہ مسیح ؑ کی قبر ہے۔ اور یہاں نہ صرف ان کی قب رہی ہے بلکہ میں یقین رکھت اہوں کہ ان کے بعض دوستوں کی قبریں بھی اسی جگہ ہیں۔ اول یوسف آسف کا نام ہی اس پر دلالت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ چونکہ وہ اپنے وطن میں باغی ٹھہرائے گئے تھے۔ اس لیے اس گورنمنت کے تحت حکومت میں کسی جگہ رہ نہ سکتے تھے۔ پس اﷲ تعالیٰ نے ان پر رحم کرکے پسند کیا کہ سام جیساسرد ملک ہی ان کے لیے تجویز کیا جہاں وہ ہجرت کرکے آگئے اور یہودیوں کی دس تباہ شدہ قومیں جن کا پتہ نہیں ملتا تھا۔ وہ بھی چونکہ یہاں ہی آباد تھیں۔ اس لیے اس فرض تبلیگ کو ادا کرنے کے لیے بھی یہاں اُن کا آنا ضروری تھا۔ اور پھر یہاں کے دیہات اور دوسری چیزوں کے نام بھی بلا و شام کے بعض دیہات وغیرہ سے ملتے جلتے ہیں۔
(اس موقعہ پر مفتی محمد صادق صاحب نے عرض کی حضور کا شیر کا لفظ خود موجود ہے۔ یہ لفظ اصل میں کاشیر ہے۔ م تو ہم لوگ ملا لیتے ہیں۔ اصل کشمیری کا شیر بولتے ہیں اور کاشیر کہلاتے ہیں۔ اور آشیر عبرانی زبان میں ملک شام کا نام ہے اور ک بمعنے مانند ہے۔ یعنی شام کی مانند ۔ پھر اور بہت سے نام ہیں۔)
حضرت نے فرمایا کہ
وہ سب نام جمع کر وتا کہ ان کا حوالہ کسی جگہ دیا جاوے۔
اسی سلسلہ کلام میں فرمایا کہ :
اکمال الدین جو پرانی کتا ب ہے اس سے صاف معلوم ہوت اہے کہیہ انیس سو برس کا ایک نبی ہے پھر کشمیریوں کے رسم و رواج وغیرہ یہودیوں سے ملتے ہیں۔ برنیئرؔ فرانسیسی سیاح نے بھی ان کو بنی اسرائیل