تکالیف کا بھیایک وقت ہوتا ہے۔ اس کے بعد پھر راحت ہے۔ جیسا بچہ پیدا ہوین کے وقت عورت کو تکلیف ہے بلکہ ساتھ والے بھی رورتے ہیں۔لین جب بچہ پیدا ہو گیا تو پھر سب کو خوشی ہے۔ ایس اہی مومن پر خد اتعالیٰ کی طرف سے ایک تکلیف اور دکھ کا وقت آتا ہے تاکہ وہ آزمایا جائے اور صبر اور استقامت کا اجر پائے۔ اصل میں تکلیف کے دن ہی مبارک دن ہوتے ہیں۔ انبیاء تکالیف کے ساتھ موافقت کرتے ہیں۔ ہر ایک شخص پر نوبت بہ نوبت یہ دن آتے ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس کا تعلق خدا تعالیٰ کے ساتھ اصلی ہے یا نہیں۔ مولوی رومی نے خوب فرمایا ہے ؎ ہر بلا کیں قوم راحق دادہ است زیر آں گنج کرم بنہادہ است حدیث میں آیا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی سے پیار کرتا ہے تو اُسے کچھ دیکھ دیتا ہے ۔انبیاء کے معجزات انہیں مصائب کے زمانہ کی دعائوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا اپریشن ہے جو ہر صادق کے واسطے ضروری ہے۔ قبل از ظہر دعائوں کی تلقین فرمایا: آگے پھر طاعون کے دن ئرہے ہیں۔ نہیں معلوم کون بچے گا اور کون مرے گا؟ آجکل توبہ کرنی چاہیے اور راتوں کو اُٹھ کر دائیں کرنی چاہئیں تا کہ خدا تعالیٰ اس وقت کے عذاب سے بچائے قادیان کے قریب دو گائوں طاعون سے ملوث ہیں۔ دعا کے ذریعہ ہی مشکلات حل ہوتی ہیں فرمایا: اﷲ تعالیٰ مخفی ہے۔ مگر وہ اپنی قدرتوں سے پہچانا جاتا ہے۔ دعا کے ذریعہ سے اس کی ہستی کا پتہ لگتا ہے۔ کوئی بادشاہ یا شہنشاہ کہلائے۔ ہر شخص پر ضرور ایسے مشکلات پڑتے ہیں جن مین انسان بالکل عاجز رہ جاتا ہے اور نہیں جانتا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ اس وقت دعا کے ذریعہ سے مشکلات حل ہو سکتے ہیں۔