چراغ الدین جمونی
جموں والے چراغ الدین کا ذکر تھا کہ عیسائیوں کے ساتھ بہت تعلق محبت رکھتا ہے۔
فرمایا:
بدقسمت اور بدبخت آدمی ہے۔ اسلام ایسے گندوں کو باہر پھینکتا جاتا ہے۔
عیسائیوں پر ایک سوال
یورپ کی شراب نوشی کا ذکر تھا۔ فرمایا:
حقیقی تہذیب شراب خور کو حاصل نہیں ہوسکتی۔ انجیل کی کسی آیت نے سؤر کو برخلاف توریت کے حلال نہیں کیا مگر یہ لوگ کثرت سے سؤر بھی کھاتے ہیں اور شراب بھی پیتے ہیں۔
جب شریعت توریت قابل عمل نہیں اور باوجود بہت سی اشیاء کی حرمت کے جن کا حکم توریت میں موجود ہے۔ عیسئایوں کے واسطے ضروری نہیں کہ ان احکام پر عمل کریں تو پھر رشتہ ناطہ کے معاملہ میں اس قدیم شریعت پر عمل کرنے کی کیا حاجت ہے اور بہن یا سالی وغیرہ سے شادی کرنا انجیل کے کس حکم کے برخلاف ہے۔
خدا تعالیٰ کا حلم
بعض لوگوں کے بدیوں اور شرارتوں میں حد سے بڑھ جانے کا ذکر تھا۔ فرمایاص
اﷲ تعالیٰ بڑا حلیم اور کریم ہیاور اس کے کام نہایت ، آہستگی کے ساتھ ہوتے ہیں۔معصیت میں پڑے ہوئے لوگوں کو وہ مہلت دیتا ہے اور لوگ اس پر حیران ہوتے اور گھبراتے ہیں۔ لیکن گذشتہ واقعات زمانہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں پر جب عذاب آتا ہے نہایت سخت آتا ہے۔زمانہ میں راحت کے دن بہت ہیں مگر آخر کار گرفتاری کا بھی ایک دن آہی جات اہے اور اس وقت ایس اپکڑا جاتا ہے کہ اس کے دکھ کو دیکھ کر سخت سے سخت دل آدمی بھی درد ناک ہو جاتا ہے ؎
ہاں مسو مگرور از حلم خدا
دیر گیرد سخت گیرد مر ترا