ہے ’’بلائوں میں جندرے مارے گئے‘‘۔ فرمایا:
’’مبشر ہے‘‘
ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کی ایک رؤیا اور اس کی تعبیر
ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے اپنا ایک خواب عرض کیا کہ کوئی کہتا ہے کہ مولوی صاحب کو خیر یہ۔ استغفار اور لاحول پڑھنا چاہیے اور پھر میں نے ایک آواز سنی۔
سلام علیکم۔ فرمایا:
’’لاحول سے یہ مراد ہے کہ بغیر فضل الٰہی کے کوئی حیلہ باقی نہیں رہا۔ اور سلام علیکم سے مراد سلامتی ہے‘‘۔ فرمایا:
’’سب اﷲ تعالیٰ کے لشکر ہیں جہاں حکم ہوتا ہے وہاں چڑھائی کرتے ہیں‘‘۔
مصائب گناہوں کا کفارہ ہوتے ہیں
مولوی عبد الکریم صاحب کی بیماری کا اور اُن کے متعلق دعا کا زکر کرتے ہوئے شیخ رحمت اﷲ صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا :
’’آپ کے واسطے بھی پانچ وقت نماز میں دعا کی جاتی ہے مگر اﷲ تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے کہ تکالیف سے اپنے بندوں کو ثواب دے۔ عبادات میں جو قصور رہ جاتے ہیں ان کا ازالہ قضاء و قدر کے مصائب سے ہو جاتا ہے کیونکہ عبادت کی تکلیف میں تو انسان اپنا رگ پٹھا آپ بچا لیت اہے۔ سردی ہو تو وضو کے لیے پانی گرم کر لیتا ہے۔ کھڑا نہ ہوسکے تو بیٹھ کر پڑھ لیتاہے۔ لیکن قضاء و قدر سے جو آسمانی مار پڑتی ہے وہ رگ پٹھہ نہیں دیکھتی۔دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ دنای میں ہمیشہ کی خوسی صرف کافر کو حاصل ہو سکتی ہے۔کیونکہ اس کے لیے عذاب کا گھر آگے ہے۔ لیکن مومن کے لیے ایسی زندگی ہوتی ہے کہ کبھی آرام اور کبھی تکلیف۔ ہاں جان بخیر چاہیے۔
یہ مصائب گناہ کا کفارہ ہوتے ہیں۔ کرب اور گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں ؎خدا داری چہ غم داری۔
خدا تعالیٰ پر پورا ایمان اور بھروسہ ہو تو پھر انسان کوتنور میں ڈال دیا جاوے اُسے کوئی غم نہیں ہوتا